• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    سنکیانگ میں کپاس کی فصل کے لیے 108-آرم روبوٹ کا استعمال

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-07-24

    چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر شی حہ زی کپاس کی فصل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک 108 -آرم روبوٹ کام کر رہا ہے۔ (شنہوا)

    چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر شی حہ زی میں کپاس کی فصل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک 108 -آرم روبوٹ کام کر رہا ہے۔ (شنہوا)

    24جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے سب سے بڑے کپاس پیدا کرنے والے علاقے، سنکیانگ کے کپاس کے وسیع کھیتوں میں ایک سست رفتار ٹینک کی طرح چلتی، چینی انجینئرز کی تیار کردہ یہ 108 میکانیکی بازوؤں پر مشتمل خودکار مشین، زراعت کے سب سے مشکل کاموں میں سے ایک، کپاس کی چنائی کے لیے بنائی گئی ہے۔

    سنکیانگ کی ایک زرعی روبوٹکس کمپنی ،ویوور ٹیک کا تیار کردہ یہ، 8۔3 میٹر اونچا اور 8 ٹن وزنی روبوٹک کاٹن ٹاپر، جدید سینسرز اور مشین وژن سے لیس ہے اور ایک گھنٹے میں 2 ہیکٹر تک کے رقبے کی کٹائی کر سکتا ہے، جو ہاتھ سے کیے گئے کام کی کارکردگی سے تقریباً 120 گنا زیادہ ہے۔کمپنی کے جنرل مینجر لیو حانگ شنگ کا کہنا ہے کہ آزمائشی تجربات کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق، یہ روبوٹک طریقہ کار ،اوسط پیداوار کو تقریباً 600 کلوگرام فی ہیکٹر تک بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں فی ہیکٹر 3,000 یوان (تقریباً 44 امریکی ڈالر) سے زیادہ کا منافع ہوتا ہے۔

    کاٹن ٹاپنگ، ایک بے حد محتاط کام ہے جس میں پودوں کو ایک خاص اونچائی کے بعد چھانٹی اورتراش درکار ہوتی ہے اور اس میں کمزور پودوں اور مضبوط پودوں کی تراش بھی فرق ہوتی ہے۔ یہ انتہائی محنت اور احتیاط کا کام کئی نسلوں سے کسان خود اپنے ہاتھوں سے کرتے آرہے تھے، خاص طور پر گرمیوں کی تپش میں یہ بے حد سخت مشقت تھی اور کام کی رفتار بھی سست ہوتی تھی ۔یہ فورتھ جنریشن روبوٹ دو چشمی دوربین والے کیمروں اور اے آئی الگورتھمز کا استعمال کرتے ہوئے تیزی سے ہر پودے کو اسکین کرتا ہے اور چند ملی سیکنڈز میں تراشے جانے والے حصوں کو تلاش کرتے ہوئے اپنے 108 میکانیکی بازوؤں سے ضرورت کے مطابق کٹ لگاتا ہے۔

    شی حہ زی، شمالی سنکیانگ میں کپاس پیدا کرنے والا ایک بڑا علاقہ ہے۔ یہاں پر موجود شن میاو ایگریکلچرل ٹیکنالوجی کمپنی، 90 کی دہائی کے بعد کے کاروباری تنظیم کاروں کے ایک گروپ نے قائم کی تھی جو کہ کپاس کے تقریباً 133 ہیکٹر کھیتوں کا انتظام و انصرام دیکھتی ہے۔ کمپنی کے جنرل مینجر جو شوائی کا کہنا ہے کہ پہلے پیداوار کے لیے یومیہ 50 سے 60 مزدوروں کی ضرورت ہوتی تھی تاہم روبوٹس کی کارکردگی متاثر کن ہے اور کاٹن ٹاپنگ کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ روبوٹ متعارف کروانے سے پہلے ہی کمپنی نے آبپاشی، کھاد ڈالنے، چھڑکاؤ اور جڑی بوٹیوں کو ختم کرنے کے عمل کو، بے دو سیٹلائٹ پوزیشننگ اور اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے خودکار بنا دیا تھا۔ آج کھیت کے تمام کام صرف پانچ افراد کے ذریعے منظم کیے جاتے ہیں۔

    سنکیانگ کا کپاس کا شعبہ پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ میکانائزڈ شعبوں میں شامل ہے، جہاں کاشت اور چنائی کے لیے مجموعی میکانائزیشن کی شرح 97 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ کپاس کے ٹاپنگ روبوٹ صرف اس خطے میں زرعی خودآٹو میشن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ایک نمایاں مثال ہے۔ حالیہ برسوں میں، کمپنیز، یونیورسٹیز اور تحقیقاتی اداروں نے کپاس کی مشینری میں درستگی، کارکردگی اور ذہانت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جدت اور تحقیق و ترقی کی کوششوں کو بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ سال، سنکیانگ یونیورسٹی اور سنکیانگ کی روبوٹکس ٹیکنالوجی کمپنی EAVISIONکی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں کاٹن لیزر-ٹاپنگ روبوٹ کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

    چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر شی حہ زی شہر میں کپاس کی فصل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک 108-آرم روبوٹ کھیتوں میں کام کر رہا ہے۔ (شنہوا)

    چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر شی حہ زی میں کپاس کی فصل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک 108-آرم روبوٹ کھیتوں میں کام کر رہا ہے۔ (شنہوا)

    ویڈیوز

    زبان