• صفحہ اول>>原创

    کیا سورج مکھی کے بیج بھی امریکا کی "قومی سلامتی" کے لیے خطرہ ہیں؟

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-05

    ایک قدیم چینی کہاوت ہے: "جو دوسروں کو پھنسانے کا ارادہ کرلے، وہ با آسانی الزامات تخلیق کر سکتا ہے۔" یہاں تک کہ آج، چین کے سورج مکھی کے بیج بھی امریکا کے الزامات کی زد میں آگئے ہیں۔

    حالیہ دنوں جاری ہونے والی امریکی دستاویزات میں چائنیز سنیک پروڈیوسر، چھا چھا فوڈ کے ساتھ "قومی سلامتی" اور "جبری مزدوری" جیسے الفاظ کو جوڑا گیا ہے، جو واشنگٹن کی پابندیوں کی پالیسی کے بے تکے پن کو ظاہر کرتا ہے۔

    امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے 43 چینی کمپنیز کو "ویغور جبری مزدوری کی روک تھام کے ایکٹ (UFLPA) کی فہرست" میں شامل کیا، جس سے کل تعداد 187 ہو گئی، جو یہ فہرست بننے کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس فہرست کا جائزہ لیں تو اس بے تکے پن کی وضاحت ہوتی ہے کہ اس فہرست میں چھا چھا فوڈز، جینگ جو سائے نیر فوڈ اور سیپٹ وولوز سمیت چین کی کھانے پینے اور ملبوسات کی کئی کنزیومر برینڈز شامل ہیں۔

    اس حوالے سے فودان یونیورسٹی کے سینٹر فار امریکن سٹڈیز کے نائب ڈائریکٹر، شن چیانگ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا، کھانے اور ملبوسات کی چینی کمپنیز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ چین کو روکنے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اقدامات حقائق کی بجائے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں جو معمول کی تجارت کو سیاسی بنا رہے ہیں۔

    لہسن اور ٹماٹروں سے لے کر سورج مکھی کے بیجوں تک لگائی جانے والی امریکی پابندیاں ٹیکنالوجی کے شعبے میں "گردن دبوچنے" سے عام صارفین کے "منہ دبوچنے" تک پہنچ گئی ہیں۔

    واشنگٹن کی حکمت عملی کا جائزہ

    امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ چینی کمپنیز کی سپلائی چین، چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے سے مواد حاصل کرتی ہیں، جس پر "جبری مزدوری" کے غیر مصدقہ الزامات ہیں، جس کی وجہ سے ایسی مصنوعات مسئلہ بن جاتی ہیں۔ یہ ایک واضح نمونہ ہے: واشنگٹن پہلے ایک بے بنیاد مفروضہ بناتا ہے اور سنکیانگ پر "جبری مزدوری" کا لیبل لگا تا ہے، پھر مبہم اصطلاحات کے ذریعے پابندیوں کے دائرہ کار کو بڑھاتا ہے اور چینی کمپنیز کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

    ایسی حکمت عملی بارِ ثبوت اور بے گناہی کے قیاس کے بنیادی قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ "اپنی بے گناہی ثابت کرو یا پھر حراست اور بلیک لسٹنگ کا سامنا کرو" کا ایک مسلسل عمل بن گئی ہے۔ یہ دراصل دنیا بھر میں کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے سیاسی دباؤ اور ہراسانی کی ایک صورت ہے۔

    چپس سے لے کر سورج مکھی کے بیجوں تک، امریکی پابندیوں کے اہداف "چھوٹے" ہوتے جا رہے ہیں، جب کہ واشنگٹن کی جانب سے "قومی سلامتی" کے تصور کا غلط استعمال اور پابندیوں کو ہتھیار بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جب پابندیوں کا ہتھوڑا سورج مکھی کے ایک معمولی بیج پر گرتا ہے، تو یہ طاقت کی علامت نہیں بلکہ یہ چین کے خلاف واشنگٹن کی دباؤ کی مہم کے پیچھے کی بڑھتی ہوئی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔

    چائنیز اکیڈمی آف انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ اکنامک کوآپریشن کے محقق ژو می کی رائے میں، واشنگٹن کی جانب سے "جبری مزدوری" کے بڑھتے ہوئے الزامات امریکا کی یک طرفہ پالیسیز اور تسلط پسندانہ طریقوں کی توسیع کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ چین کو روکنے کی اس کی سابقہ کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس نے اسے دباؤ کے نئے طریقے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں نے چین کی ترقیاتی بنیادوں کو کمزور کرنے کی بجائے، ٹیکنالوجی میں چین کے خود انحصاری کے حصول کو تیز کر دیا ہے اور صنعتی لچک کو مضبوط کیا ہے۔ ان پابندیوں سے حاصل ہونے والے محدود نتائج کے باعث کچھ امریکی پالیسی سازوں نے چینی کمپنیز کو بدنام کرنے کی مہم چلانے اور سیاسی لیبلنگ کے ذریعے وسیع تر پابندیوں کا راستہ اپنایا ہے۔

    لیکن ان اقدامات کی مثال "اپنے پاوں پر کلہاڑی مارنے" جیسی ہے۔ پابندیوں کی فہرستوں میں بلا سوچے سمجھے کیا جانے والا اضافہ اور اس کی تعمیل میں عالمی سپلائی چینز پر بڑھتے ہوئے اخراجات بے نتیجہ نہیں رہیں گے۔ اس کے نتیجے میں، درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوگا نیز یہ امریکی صارفین اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں پر بوجھ ڈالیں گے۔ "مجرم ہونے کا مفروضہ" اور "لانگ آرم دائرہ اختیار" کا استعمال عارضی طور پر تو خلل پیدا کرے گا، لیکن طویل مدت میں یہ امریکی تجارتی قوانین پر اعتماد کو کمزور کرے گا اور دنیا بھر میں کاروباروں کو کم سیاسی مداخلت والی زیادہ مستحکم مارکیٹس کی تلاش پر مجبور کرے گا۔

    جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ نہیں بن جاتا۔ واشنگٹن کی طرف سے جاری کردہ بلیک لسٹ سے، چینی کمپنیز کے پاس موجود ملازمت کے مستند ریکارڈ، مارکیٹ پر مبنی سپلائی چینز اور سنکیانگ میں لاکھوں مزدوروں کے اپنی مرضی سے ملازمت تلاش کرنے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے جیسے مستند زمینی حقائق مٹائے نہیں جا سکتے۔ ایک جعلی فہرست معمول کی تجارت کو روک نہیں سکتی، نہ ہی یہ چینی کمپنیز کو عالمی توسیع سے روک سکتی ہے۔ چین غیر معقول دباؤ سے متاثر نہیں ہوگا، واشنگٹن عام اشیا کو جتنا زیادہ اپنا سیاسی ہدف بناتا ہے، اتنا ہی یہ اپنے ہی طریقہ کار کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان