
صوبہ آن حوئی کے شہر ووحو کی نان لنگ کاونٹی کی مصوری و خطاطی کی اکیڈمی میں وی شیان یانگ ، دستی ہتھوڑے سے تانبے کی باریک پٹی پر کام کر رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/وانگ روئی حووا)
5اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) مشرقی چین کے صوبے آن حوئی کے شہر ووحو کی نان لنگ کاونٹی کی مصوری و خطاطی کی اکیڈمی میں کام کرتے 55 سالہ وئے شیان یانگ کی کمر ہلکی سی جھکی ہوئی ہے اور اس کی آنکھیں شوق اور توجہ کی حرارت سے چمکتی ہیں۔
کاپر ریلیف تکنیک ، تانبے کی باریک پٹی پر دستی ہتھوڑے سے نقش و نگار بنانے کی تکنیک ہے، جو لکڑی کے بلاک کی چھپائی اور گھسائی کی تکنیکوں کا امتزاج ہے۔ پہلے، ایک تختے پر نمونے کندہ کیے جاتے ہیں۔ پھر، تانبے کے ایک تاو دیئے گیے ورق کو تختے کے اوپر رکھا جاتا ہے اور اس پر ایک مخصوص زور اور ترتیب کے ساتھ بار بار دستی ہتھوڑا مارا جاتا ہے، آہستہ آہستہ کندہ کردہ ڈیزائن کی ہر تفصیل تانبے کے اس ورق پر ابھرنے لگتی ہے۔
وی شیان یانگ کہتے ہیں کہ تانبے کے ورق کی موٹائی 0.1 سے 0.12 ملی میٹر کے درمیان ہونی چاہیے۔ اگر یہ بہت پتلا ہو تو یہ آسانی سے پھٹ سکتا ہے؛ اگر یہ بہت موٹا ہو تو اسے ڈھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تانبے کے ورق کو تقریباً 350 ڈگری سیلسیس تک گرم کرنا سب سے اہم مرحلہ ہے کیونکہ اگر اسے درست حد تک گرم نہیں کیا جائے تو تانبے کی لچک کم ہوگی؛ اگر زیادہ گرم کیا جائے تو اس کی مضبوطی کم ہوگی ۔

لکڑی کا تختہ جس پر، شمالی سونگ شاہی دور (960-1126) کی خواتین موسیقاروں کے مجسمے کندہ ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن/وانگ روئی حووا)
1972 میں نان لنگ میں پیدا ہونے والے وی شیان یانگ کی اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے سفر کا آغاز بچپن سے ہی ہوگیا تھا۔ ان کے والد ایک مشہور مقامی دستکار تھے اور تانبے پر خطاطی اور مصوری میں مہارت رکھتے تھے ۔1980 کی دہائی میں، وی نے کاپر ریلیف تکنیک کو سیکھنا شروع کیا۔ جونیئر ہائی سکول سے فارغ التحصیل ہونے اور اس فن کی باقاعدہ ورکشاپ کھولنے سے پہلے انہوں نے ایک آرٹ ٹیچر کے طور پر کام کیا اور اپنی پہلی انفرادی نمائش منعقد کی۔

وی شیان یانگ اپنے فن پارے پر پالش کا کام کر رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/وانگ روئی حووا)
وی نے اب تک 30 سے زیادہ شاگردوں کی تربیت کی، لیکن ان میں سے صرف چند نے ہی اسے پیشے کے طور پر اپنایا ہے۔ وی بتاتے ہیں کہ 1995 سے 2000 کے دوران، کاروبار عروج پر تھا۔ اتنے زیادہ آرڈر آتے تھے، بہت تیزی کے باوجود انہیں پورا ہی نہیں کیا جاسکتا تھا اور سٹاک میں مکمل تیار مصنوعات نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت، لوگ اکثر شادیوں، نئے گھر کی دعوت اور دکانوں کے افتتاح پر تانبے کے فن پارے خوش قسمتی کے علامت کے طور پر پیش کرتے تھے۔
آج،مارکیٹ بدل چکی ہے، مشین سے بنے ہوئے فن پارے کم وقت میں تیار ہوتے ہیں اور سستے بھی ہوتے ہیں، جب کہ مکمل طور پر ہاتھ سے بنے کام ایک خاص شوق بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود، وی اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم روایات منتقل کرنے کے بارے میں تب ہی بات کر سکتے ہیں جب ،لوگ اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور اس کی قدر کو سمجھتے ہوں۔

وی شیان یانگ کی تانبے پر کی گئی خطاطی۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/وانگ روئی حووا)



