13اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 10 اگست کو، قومی ترقی و اصلاحات کمیشن اور توانائی کی قومی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ترقیاتی منصوبے میں بیان کیا گیا ہے کہ چین کا ہدف، 2030 تک کوئلے کے ایک جدید صنعتی نظام کی تشکیل ہے تاکہ توانائی کی سیکیورٹی کو سبز تبدیلی کے ساتھ متوازن کیا جائے۔ چین اپنے کوئلے کی صنعت کے ڈھانچے کی بہتری اور اپ گریڈیشن میں تیزی لائے گا کیونکہ توقع ہے کہ ملک میں کوئلے کی کھپت عروج تک پہنچ جائے گی۔ اس میں کوئلے کے وسائل کی ترقی کے لیے رسائی کے اعلیٰ معیار، جدید پیداواری صلاحیت کی ترقی کے لیے زیادہ کوششیں، پرانی اور غیر موثر صلاحیتوں کا منظم خاتمہ اور کوئلے کے گہرے وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے محتاط رویہ اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔
2030 تک چین میں، کوئلے کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں بڑی اور جدید کانوں کا حصہ 87 فیصد تک ہونے کی توقع ہے، جب کہ "انٹیلی جنٹ مائنز" 75 فیصد ہوں گی۔ "انٹیلی جنٹ مائن" ایک ڈیجیٹلی کنیکٹڈ، خودکار ورک سائٹ ہے جو کہ اے آئی اور ریئل ٹائم ڈیٹا کا استعمال کرتی ہے تاکہ کان کنی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے اور انسانی مداخلت اور خطرات کو کم کیا جا سکے۔
ایسے دور میں کہ جب چین اپنی سبز تبدیلی کو تیز کر رہا ہے کوئلہ، چین کی انرجی سکیورٹی کے لیے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کا ہدف 2030 تک کوئلے کی کھپت کی انتہا تک پہنچنا اور توانائی کی مجموعی کھپت میں غیر فوسل توانائی کا حصہ 25 فیصد تک بڑھانا ہے، جس میں کوئلے کی صاف، زیادہ مؤثر اور انٹیلی جنٹ پیداوار اور استعمال پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ کوئلے کی صنعت کے تحقیقی ادارے برائے منصوبہ بندی و خاکہ سازی کے محقق چو یانگ کا کہنا ہے کہ حالیہ منصوبے کی رہنمائی میں، 2026-2030 کے دوران چین کی کوئلے کی صنعت تیزی سے مرتکز ہونے کی توقع ہے، جبکہ ایسی چھوٹی کانیں جہاں حادثات ہونے کے امکانات ہوں یا جن کے وسائل ختم ہو چکے ہوں، وہ تیزی سے مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گی۔
منصوبے میں، کول بیڈ میتھین کی ترقی اور استعمال میں اضافے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ منصوبے کے ایک ضمیمے کے مطابق، چین کا ہدف ہے کہ 2030 تک 26 ارب کیوبک میٹر کول بیڈ میتھین کی پیداوار اور 6.5 ارب کیوبک میٹر کول مائن گیس کا استعمال کیا جائے۔



