مقامی وقت کے مطابق 6 تاریخ کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آنے والے چند دنوں میں ایران آبنائے ہرمز کے باہر "ممنوعہ علاقے" کے قیام کا اعلان کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ "ممنوعہ علاقہ" امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیج فارس کی اندرونی آبی حدود تک ہوگا۔
محسن رضائی نے یہ بھی اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کے نقشے سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ "آنے والے چند دنوں میں دستخط کے لیے تیار ہو جائے گا"۔
مقامی وقت کے مطابق 6 ستمبر کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف علی عبداللہی نے کہا کہ ایران امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، اور امریکہ کی جانب سے سافٹ پاور وار ،ادراکی اور معاشی جنگ کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا بھی ایران کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
مقامی وقت کے مطابق 6 ستمبر کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس روز تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی کارروائی میں امریکی فوج نے 92 تجارتی جہازوں کو اپنا رخ تبدیل کرنے کا حکم دیا ، 3 تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا اور 2 جہازوں پر سوار ہو کر ان کی تلاشی لی ہے۔



