• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین پاکستان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ میں بین الاقوامی علمی سمپوزیم

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-07

    7 ستمبر(پیپلز ڈیلی آن لائن)5 اور 6ستمبر کو بیجنگ میں، چین- پاکستان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ، پیکنگ یونیورسٹی میں "روایت کا تسلسل، جدت اور مشترکہ کامیابی: نئے عہد میں مشترکہ مستقبل کی حامل چین- پاکستان برادری کی تشکیل" کے موضوع پر ایک بین الاقوامی علمی سمپوزیم منعقد ہوا۔ چین اور پاکستان کے سفارتی علمی و کاروباری شعبوں سمیت ، تعلیم و ثقافت اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے سمپوزیم میں شرکت کی اور چین -پاکستان تعلقات کی ترقی، چین- پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر، عوامی و ثقافتی تبادلوں اور تعلیمی تعاون سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    چین- پاکستان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی علمی سمپوزیم کے شرکا   کا گروپ فوٹو۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی سکول آف فارن لینگویجز)

    چین- پاکستان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی علمی سمپوزیم کے شرکا کا گروپ فوٹو۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی سکول آف فارن لینگویجز)

    چین میں پاکستان کے سفیر ، خلیل ہاشمی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں ۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی سکول آف فارن لینگویجز)

    چین میں پاکستان کے سفیر ، خلیل ہاشمی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں ۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی سکول آف فارن لینگویجز)

    چین میں پاکستان کے سفیر ، خلیل ہاشمی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہمی تزویراتی اعتماد، ہمیشہ سے پاک -چین سٹریٹجک شراکت داری کی ایک اہم بنیاد رہا ہے اور یہ اعتماد اقتصادیات، سکیورٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور عوامی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے دونوں ممالک اعلیٰ سطحی تبادلوں، سٹریٹجک روابط، ادارہ جاتی مشاورت اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلقہ امور پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہوئے اپنے باہمی اعتماد کو مستحکم اورمضبوط کر رہے ہیں۔

    مستقبل کے حوالے سے خلیل ہاشمی نے کہا کہ دونوں ممالک کو ،چین -پاکستان اقتصادی راہداری 2.0 کی تعمیر کو تیز کرنا چاہیے، سرمایہ کاری کے تعاون اور منڈیوں تک رسائی کو مزید وسعت دینی چاہیے، تیسرے فریق کی شرکت کے امکانات تلاش کرنے چاہئیں اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیلی کمیونیکیشن، سائبر سکیورٹی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سمیت نئے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعات، تحقیقی اداروں اور نوجوانوں کے مابین تبادلوں کو مزید مضبوط بنایا جائے اور دونوں ممالک کے عوامی روابط کو گہرا کیا جائے۔

    75 سالہ دوستانہ روابط سے قائم ہونے والی مضبوط بنیاد کو مستقبل کی ترقیاتی صلاحیت میں کیسے تبدیل کیا جائے، سمپوزیم میں شریک مہمانوں کی گفتگو کا ایک اہم موضوع رہا۔

     چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے سابق پارٹی سیکریٹری اور ڈائریکٹر، لو جاؤ ہوئی شرکا سے  خطاب کررہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے سابق پارٹی سیکریٹری اور ڈائریکٹر، لو جاؤ ہوئی شرکا سے خطاب کررہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے سابق پارٹی سیکریٹری اور ڈائریکٹر ،لو جاؤ ہوئی نے "پاکستان میں نئی تبدیلیاں اور چین- پاکستان تعاون کے نئے تناظر" کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال میں گہری تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جب کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی ترقی میں بھی کئی نئے رجحانات سامنے آئے ہیں۔ نئی صورتحال کے پیش نظر ،چین- پاکستان تعلقات کو موجودہ تعاون کی بنیاد پر ترقی کے نئے راستے تلاش کرنے چاہئیں اور پاکستان کے استحکام و خوشحالی اور علاقائی امن و ترقی کے لیے مزید مثبت قوت فراہم کرنی چاہیے۔

    پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر ،سلمان بشیر سمپوزیم کے شرکا سے خطاب کر رہے ہیں۔  (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر ،سلمان بشیر سمپوزیم کے شرکا سے خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر سلمان بشیر نے کہا کہ باہمی اعتماد و احترام وہ اہم عوامل ہیں جن کی بدولت چین -پاکستان تعلقات 75 برسوں کے دوران مسلسل مضبوط اور پائیدار ہوتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین- پاکستان اقتصادی راہداری نے دونوں ممالک کے لیے تعاون کے اہم پلیٹ فارم فراہم کیے ہیں۔ مستقبل میں نہ صرف متعلقہ منصوبوں کو آگے بڑھایا جانا چاہیے بلکہ پہلے سے تعمیر شدہ انفراسٹرکچر سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت نیز ماحولیاتی تحفظ سمیت مزید شعبوں میں تعاون کو وسعت دینی چاہیے۔

    چائنا تھری گورجز انٹرنیشنل انرجی انویسٹمنٹ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور جنرل منیجر چِھن گوو بین، افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    چائنا تھری گورجز انٹرنیشنل انرجی انویسٹمنٹ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور جنرل منیجر چِھن گوو بین، افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    مسلسل توسیع پاتا عملی تعاون بھی چین -پاکستان کی روایتی دوستی میں نئے رنگ بھر رہا ہے۔ چائنا تھری گورجز انٹرنیشنل انرجی انویسٹمنٹ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور جنرل منیجر چِھن گوو بین نے بتایا کہ کاروٹ ہائیڈرو پاور سٹیشن، 2022 میں نیشنل گرڈ سے منسلک ہوا ،تب سے یہ مسلسل اور بلا تعطل بجلی فراہم کر رہا ہے اور اس کی بجلی کی مجموعی پیداوار 12 ارب کلوواٹ آور سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں تھری گورجز کے زیرِ انتظام ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے اور پن بجلی منصوبے ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں، جس سے مقامی سطح پر صاف توانائی کی فراہمی بہتر بنانے اور توانائی کے ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مثبت کردار ادا کیا گیا ہے۔ مستقبل میں کمپنی، چین اور پاکستان کے درمیان صنعت، جامعات اور تحقیق کے اشتراک کو مزید فروغ دے گی اور انٹیلیجنٹ انرجی سسٹم اور سمارٹ آپریشن اینڈ منٹیننس سمیت مختلف شعبوں میں تکنیکی تبادلوں کو مضبوط کرے گی۔

    پیکنگ یونیورسٹی کونسل  کے وائس چیئرمین  اور اعلی عہدے دار /پروووسٹ،   پروفیسر جیانگ گوو ہوا افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    پیکنگ یونیورسٹی کونسل کے وائس چیئرمین اور اعلی عہدے دار /پروووسٹ، پروفیسر جیانگ گوو ہوا افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ کار صرف تجارت، معیشت اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی کونسل کے وائس چیئرمین اور اعلی عہدے دار /پروووسٹ، پروفیسر جیانگ گوو ہوا نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیکنگ یونیورسٹی اور پاکستان کے درمیان علمی روابط چین -پاکستان سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ ہی آگے بڑھے ہیں۔ 1954 میں شعبہ اردو کے آغاز سے لے کر 2007 میں مرکز برائے مطالعہ پاکستان کے قیام تک، پیکنگ یونیورسٹی طویل عرصے سے زبان کی تدریس، علاقائی و ملکی مطالعات، افرادی قوت کی تربیت اور علمی تبادلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے عوامی و ثقافتی روابط کو فروغ دیتی آرہی ہے۔ مستقبل میں یونیورسٹی، پاکستان کی جامعات اور علمی اداروں کے ساتھ تبادلوں اور تعاون کو مزید گہرا کرے گی۔

    پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعہِ پاکستان کے  بانی ڈائریکٹر ،تھانگ مینگ شینگ افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعہِ پاکستان کے بانی ڈائریکٹر ،تھانگ مینگ شینگ افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعہِ پاکستان کے بانی ڈائریکٹر ،تھانگ مینگ شینگ نے کہا کہ عالمی نظامِ حکمرانی میں گہری تبدیلیوں کے پس منظر میں، گلوبل ساؤتھ کے اہم ارکان کی حیثیت سے چین اور پاکستان کو سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی گہرے علمی تبادلہِ خیال کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کی مستحکم اور دیرپا ترقی کے لیے فکری معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سمپوزیم کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے سکالرز کے درمیان تبادلے کا نیا نظام قائم کیا جائے گا اور نوجوان محققین کی تربیت کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    خلیل ہاشمی نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیکنگ یونیورسٹی میں منعقدہ اس سمپوزیم کی اہمیت یہ ہے کہ دونوں ممالک ، اپنے پچھلے 75 سالوں پر غور کریں کہ انہوں نے مشترکہ طور پر کیا حاصل کیا، کون سی کامیابیاں پائیں، کیسے مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور ایک بہت اچھی مثالی دوستی کی بنیاد رکھی۔ اس سمپوزیم کا ایک حصہ تو یہ ہے اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ مستقبل میں، اگلے سالوں اور انے والی دہائیوں میں، ہم اس پرانی اور مثالی دوستی کو کیسے مزید فروغ دیں گے اور آگے لے کر جائیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہترین موقع ہے، یہاں پاکستان اور چین سے بہت سے محققین، ماہرین، سابق سفارت کار اور نوجوان آئے ہوئے ہیں اور ان سب کے لیے یہ بڑا اچھا موقع ہے کہ وہ تبادلہ خیال کریں اور اہم نکات پر مزید گفتگو کریں، تاکہ ثقافتی، معاشی اور سیکیورٹی کے حوالے سے دنیا اور خطے میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں،اس کے حوالے سے دونوں ملک مشترکہ طور پر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں اور کسی بھی قسم کے خدشات کا مل کر مقابلہ کر سکیں۔

    پاکستان کے " زراعت و جنگلات کے پائیدار نیٹ ورک" کے بانی ناصر علی شاہ بخاری نے پیپلز ڈیلی آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریبات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ پاکستان اور چین کے تعلقات، اب ایک تناور درخت بن چکے ہیں۔ اس کو تسلیم کرنا اور مستقبل کے لیے راہیں متعین کرنا اس تقریب کا بڑا مقصد ہے۔ جس طرح چین اور پاکستان کی طرف سے لوگ اس میں شریک ہو رہے ہیں، اس کے نتائج اور مقاصد کا حصول بہت اچھا ثابت ہوگا۔

    سمپوزیم کے دوران شرکا نے تین متوازی سیشنز میں "چین -پاکستان تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات: علاقائی و بین الاقوامی تناظر میں"، "چین- پاکستان اقتصادی راہداری: کامیابیاں، چیلنجز اور مستقبل کی سمت" اور "چین- پاکستان عوامی و تعلیمی تبادلے: مستقبل کے معماروں کی تربیت" کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

    چین اور پاکستان کے مہمان ایک متوازی سیشن میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    چین اور پاکستان کے مہمان ایک متوازی سیشن میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔ (تصویر بشکریہ: پیکنگ یونیورسٹی اسکول آف فارن لینگویجز)

    6 ستمبر کو گول میز فورم کے ساتھ ساتھ چین پاکستان اسکالرز اردو فورم اور پیکنگ یونیورسٹی میں شعبۂ مشرقی علوم کے قیام کی 80ویں سالگرہ کی یادگاری تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کےمستقبل کی ترقی، زبان، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    یہ سمپوزیم پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعہِ پاکستان، چین میں پاکستانی سفارت خانے، پیکنگ یونیورسٹی سکول آف فارن لینگویجز کے شعبۂ مطالعہِ جنوبی ایشیا اور پاکستان کے "انڈرسٹینڈنگ چائنا" فورم کے اشتراک اور چائنا تھری گورجز ساؤتھ ایشیا انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔

    ویڈیوز

    زبان