10 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)مشرقی چین کے صوبے جیانگ سو کے سوجو ووجونگ ٹیکنیشن کالج کے استاد، گونگ شن کی قیادت میں چین کی بیکری ٹیم نے 48ویں ورلڈ سکلز مقابلے میں شرکت کی۔ 31 سالہ گونگ شن نے دنیا بھر کے بہترین بیکرز کے ساتھ مقابلہ کیا اور اس دوران سیکھا کہ "ویسٹرن-سٹائل بریڈ" کو ایک منفرد چینی ذائقہ کیسے دیا جائے۔ اس سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ 20 سال کی عمر سے پہلے، انہوں نے کبھی "ورلڈ-کلاس بریڈ-بیکنگ" کے بارے میں سنا بھی نہیں تھا۔

(تصویر ۔سی ایم جی وائس آف چائنا)
سیکنڈری ووکیشنل اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، گونگ شن نے شین زن میں 8,000 یوآن ماہانہ پر ایک فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک شام ان کے والدین نے انہیں شیف، نائی، یا کیک ڈیکوریٹر میں سے ایک ملازمت کا انتخاب کرنے کو کہا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ کوئی مہارت سیکھنا اپنے ہی آبائی شہر سے اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد دے گی۔ گونگ شن نے ایک رات سوچ بچار کرنے کے بعد، کیک ڈیکوریٹر کا انتخاب کیا۔
گونگ شن نے تربیتی مرکز میں تربیت حاصل کی اور پھر ایک کیک شاپ میں کام سیکھنے سے لے کر اسٹور منیجر تک ترقی حاصل کی۔ اکتوبر 2015 میں وہ شین زن سے صوبہ جیانگ سو چلے گئے اور وہاں پر سوجو ووجونگ ٹیکنیشن کالج میں پڑھانے لگے۔ باوجود یہ کہ انٹرویو میں وہ بہت اچھے سکور کے ساتھ کامیاب ہوئے، لیکن 2,500 یوآن کی ماہانہ تنخواہ نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ان کا شین زن چھوڑنے کا فیصلہ غلط تھا۔
کچھ مہینوں بعد، گونگ کے استاد نے انہیں فون کیا اور پوچھا کہ کیا وہ 44ویں ورلڈ سکلز مقابلے میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ بیکنگ کو اسی سال، سکلز مقابلوں میں ایک نئے مقابلے کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اصولوں کے تحت، مقابلے کے وقت اس میں شریک ہونے والے کی عمر 22 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی اور وہ اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی مقابلے میں شرکت کر سکتے تھے۔ لیکن سمندر پار، چین کی نمائندگی کے لیے صرف ایک ہی سیٹ دستیاب تھی۔
مقابلے کی تیاری کے لیے، گونگ نے اپنا زیادہ تر وقت اوون کے سامنے کام کرتے گزارا اور گھر میں بنے ہوئے اوزار استعمال کرتے ہوئے "بریڈ میکنگ" کی تیکنیکوں کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔ بار بار مشق کے لیے کہیں جگہ نہ ہونے کے سبب، وہ باقی طلبہ کے جانے کا انتظار کرتے، پھر کمرہ جماعت میں کام کے لیے ایک میز لگاتے اور رات بھر مشق کرتے۔ مہینوں کی شدید تیاری کے بعد، گونگ آخر کار قومی مقابلے تک پہنچے۔ لیکن جس لمحے انہوں نے اپنی ٹول کٹ کھولا یک دم جیسے ان کا ذہن ماوف ہو گیا۔ متعدد ماڈیولز میں متعدد غلطیاں کرنے کے باوجود، اس سال وہ قومی سطح پر چھٹے نمبر پر رہے اور ورلڈ سکلز مقابلے سے محروم رہ گئے۔ لیکن جس چیز کے لیے گونگ ہمیشہ شکر گزار رہے وہ یہ تھی کہ مقابلے کے منصفین نے گونگ کے سکورز سے آگے ان کی صلاحیت، توجہ اور شوق کو پرکھ لیا تھا۔ اسی لیے انہوں نے گونگ کو بیکنگ کے مزید مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا۔

(تصویر ۔سی ایم جی وائس آف چائنا)
2020 میں فرانس کے شہر پیرس میں، 10ویں بیکری ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا۔ گونگ نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس سے منصفین دنگ رہ گئے۔ گونگ نے صرف آٹھ گھنٹوں میں 300 سے زائد بریڈ پیسز کے ساتھ ایک بہترین ڈیزائن، ڈسپلے پلیٹ فارم پر کھڑا کیا تھا۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان ہوا تو گونگ فاتح کے پوڈیم پر کھڑے تھے اور چین کا قومی ترانہ بج رہا تھا۔ 1992 میں شروع ہونے والے بیکری ورلڈ کپ میں یہ چین کی پہلی چیمپیئن شپ تھی۔
2023 میں، فرانس کے شہر نانتے میں 9ویں ورلڈ بریڈ کمپیٹشن کے ورلڈ فائنل کا انعقاد ہوا۔ بریڈ اولمپکس کے نام سے معروف اس ایونٹ میں، گونگ اور ان کی ٹیم کو ساڑھے 8 گھنٹوں میں 100 سے زیادہ بریڈ پیسز بنانے کا ہدف دیا گیا۔ گونگ یاد کرتے ہیں کہ تیاری کے دوران ان کی ٹیم کو متعدد چیلنجز اور غیر متوقع صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا حتی کی ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ وہ ہار ماننے کے بارے میں سوچنے لگے، لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ وہ انفرادی طور پر اس مقابلے کا حصہ نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک پوری ٹیم کھڑی ہے اور وہ اپنے پورے ملک و عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ نتائج سامنے آئے تو ٹائٹل چین نے جیتا اور گونگ کو بہترین "آرٹسٹک بریڈ" کا اعزاز دیا گیا۔
آج، گونگ پسِ پردہ رہ کر کام کر رہے ہیں، وہ ان مقابلوں کے لیے نوجوانوں کو تربیت دیتے ہیں اور بین الاقوامی بیکنگ مقابلوں کے سب سے کم عمر منصفین میں سے ایک کے طور پر خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ہر سمسٹر کے آغاز پر، وہ اپنے طلبہ کے سامنے ایک جملہ دہراتے ہیں: "اگر اس دنیا میں کوئی معجزہ ہے تو اس کا دوسرا نام صرف محنت ہے۔"



