تحریر : سارا افضل

چین کے صوبے گوئے جو کے شہر گوئیانگ کی چھن ین مارکیٹ میں ، میاؤ قومیتی گروہ کے چاندی پر نقاشی کے قدیم فن کے زیورات ۔(پیپلز ڈیلی آن لائن – سارا افضل)
جب بھی چین کا ’’غربت کے خاتمے کا کرشمہ ‘‘ زیرِ بحث آتا ہے بعض حلقے، خصوصاً مغربی میڈیا اس کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہیں: کیا دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک واقعی غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے؟ (غربت کے خاتمے کی مہم کے دوران چین آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا)۔ کیا ان اعداد و شمار پر یقین کیا جا سکتا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے سوالات اکثر وہ لوگ اٹھاتے ہیں جنہوں نے نہ تو کبھی چین کا دورہ کیا ہے اور نہ ہی وہاں کے زمینی حقائق کا مشاہدہ کیا ہے۔
درحقیقت ،چین میں غربت کا خاتمہ کسی ایک اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک جامع اور ہمہ جہت حکمت عملی کا پھل ہے، جسے سمجھنے کے لیے زمینی حقائق کا مشاہدہ ضروری ہے۔
چین کے ہر خطے کے وسائل اور مسائل مختلف ہیں۔ اس لیے حکمت عملی کا اہم پہلو مقامی وسائل، مصنوعات اور دستکاری کو ،سڑکوں اور نقل و حمل کے دیگر ذرائع میں بہتری کرتے ہوئے قومی اور عالمی منڈیوں تک پہنچانا رہا ہے۔ مجھے اپنے حالیہ دورۂ گوئے جو کے دوران اس حکمت عملی کے حقیقی نتائج دیکھنے کا موقع ملا۔
گوئے جو متعدد مقامی قومیتوں کا مسکن ہے جن کی چاندی کے زیورات بنانے ، میاؤ کڑھائی، گھوڑے کی دم کے بالوں سے کی جانے والی کڑھائی، باتک اور رنگین قومیتی لباس بنانے کی بھرپور ثقافتی روایات اور ہنر نسل در نسل منتقل ہوتے آرہے ہیں اور ہر قومیتی گروہ کی خواتین بچپن میں ہی انہیں سیکھ لیتی ہیں۔ ماضی میں، غیر موافق جغرافیائی حالات اور مارکیٹ تک محدود رسائی کی وجہ سے یہ ہاتھ سے بنے ہوئے کام صرف ذاتی استعمال کے لیے ہی ہوتے تھے اور ان سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی تھی ۔ دیہی خواتین کو ملازمت کے لیے یا تو کسی دوسرے علاقے کی جانب ہجرت کرنی پڑتی تھی یا خاندان کے ساتھ گھر ہی رہنا ہوتا تھا۔ ان فنون کی مالی قدر نہ ہونے کی وجہ سے ، سیکھنے والوں کی بھی کمی ہو رہی تھی۔

چین کے صوبے گوئے جو کے شہر گوئیانگ کی ڈسٹرکٹ حوا شی کے گاوں لونگ جینگ میں، بائی یوئے بویوئے کپڑے کی ورکشاپ میں جدید فیشن کے مطابق ،مقامی خواتین کی بنائی گئی مختلف مصنوعات ۔ (تصویر : پیپلز ڈیلی آن لائن )
اس پس منظر میں، 2013 میں گوئے جو کی صوبائی پارٹی کمیٹی اور صوبائی عوامی حکومت نے خواتین کی خصوصی دستکاری صنعت کے لیے "جن شیو منصوبے " کا آغاز کیا۔ گوئے جو ویمن فیڈریشن اور متعدد شعبوں کے ذریعے مشترکہ طور پر فروغ دیے جانے والے اس اقدام کا مقصد ، قومیتی ثقافتی وسائل کو ایک نئی زندگی دینا اور دیہی خواتین کے لیے ان کے گھروں کے قریب ہی روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ خواتین کی معاشی خود مختاری ، غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ ، ثقافتی سیاحت اور دیہی ترقی کو یکجا کر کے، یہ منصوبہ قومیتی علاقوں میں خواتین کی ترقی کے لیے ایک ماڈل بن گیا ہے۔ اس کے عملی اقدامات کو آل چائنا ویمنز فیڈریشن کی طرف سے اقوام متحدہ میں جمع کروائے جانے والے غربت میں کمی کے کیسز میں شامل کیا گیا ہے۔
منصوبے میں ، مارکیٹ پر مبنی نقطہ نظر اپنایا گیا ہے تاکہ دستکاری، خاص طور پر میاؤ کڑھائی، باتک اور قومیتی ملبوسات کا ایک مکمل صنعتی سلسلہ تیار کیا جا سکے ۔ دیہاتوں، نئی آباد کی گئی کمیونٹیز اور ورکشاپس میں تربیتی پروگرامز کے ذریعے خواتین کو ہنر، ڈیزائن اور مارکیٹنگ کی مہارت فراہم کی جاتی ہے ۔ جن شیو ورکشاپس، دستکاروں کے نمائشی مراکز اور نمائشی کاونٹیز کا ایک نیٹ ورک اس پرعمل درآمد کی معاونت کرتا ہے، جب کہ "ادارے + ورکشاپس + کشیدہ کاروں" کا ماڈل، دستکاروں کو کاروباروں اور کوآپریٹوز سے جوڑتا ہے۔ ڈیزائن کی ٹیمز ، روایتی نمونوں کو مارکیٹس کے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالتی ہیں جب کہ ای کامرس، نمائشیں اور مشرق-مغرب تعاون ،فروخت کے چینلز کو بڑھاتے ہیں۔ کاروباری مسابقت ، بہتر پالیسی اور مالی معاونت صنعت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

صوبہ گوئے جو کے شہر بی جئے ، چھیان شی کی شن رین میاو ٹاون شپ کے گاوں حوا وو میں ایک لڑکی روایتی کڑھائی کا نفیس نمونہ بنا رہی ہے۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ سارا افضل)
ان کوششوں کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ 2013 سے، اس منصوبے نے سپیشل فنڈز میں 162 ملین یوآن کی سرمایہ کاری کی، 260,000 خواتین کو تربیت دی گئی ، 114,000 خواتین کو روزگار یا کاروبار میں مدد فراہم کی اور 2,680 سے زیادہ اداروں اور کوآپریٹوز کی معاونت کی گئی ۔ اس منصوبے کے تحت ، پورے گوئے جو میں تقریباً 500,000 خواتین دستکاری کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ کئی خواتین جو پیچھے رہ گئیں یا دوبارہ آباد کی گئی کمیونٹیز میں ہیں،انہوں نے اپنے خاندانوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے مقامی طور پر روزگار حاصل کیا۔ اب یہ روایتی ہنر ،وسیع مارکیٹس تک پہنچ چکا ہے اور نوجوانوں کو اس ہنر کا وارث بننے کی جانب مائل کر رہا ہے ساتھ ہی ساتھ یہ ثقافتی وسیاحتی تجربات کا حصہ بھی بن گیا ہے۔

چین کے صوبے گوئے جو کے شہر گوئیانگ کی ڈسٹرکٹ حوا شی کے گاوں لونگ جینگ میں، بائی یوئے بویوئے کپڑے کی ورکشاپ کے نمائشی حصے میں رکھے گئے، باتک اور روایتی کشیدہ کاری والے قومیتی ملبوسات ۔(پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ سارا افضل)
جن شیو منصوبے پر عمل درآمد کے 13 سال بعد، اس منصوبے نے خواتین کی "دست کاری کی مہارتوں" کو "دست کاری کی معیشت" میں تبدیل کر دیا ہے اور خواتین کی اقتصادی و سماجی حیثیت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ قومیتی ثقافتی ورثے کی روح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے تجربات کو " خواتین کی غربت اور نئے دور میں غربت میں کمی کے لیے چین کے تجربات " میں شامل کیا گیا ہے ۔ یہ منصوبہ ، خواتین کی خود مختاری اور کمیونٹی کی ترقی کا ایک منفرد "گوئے جو ماڈل "پیش کرتا ہے، جو اداروں کے مابین ہم آہنگی نیز مقامی کمیونٹیز اور بیرونی شراکت داروں کے تعاون پر مبنی ہے۔
بائی یوئے بویوئے سٹوڈیو کی ڈائریکٹر،لو شی لین نے جن شیو منصوبے کی جانب سے مستقل معاونت کو ان تبدیلیوں کا سبب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سٹوڈیو بنیادی طور پر ایک روایتی ورکشاپ کے طور پر کام کرتا تھا، جہاں روایتی آرڈرز کو مکمل کیا جاتا تھا اور مصنوعات بھی محدود تھیں۔ منصوبے کی مدد سے، اس کی اپنی برینڈ شناخت مضبوط ہوئی اور مصنوعات کی فہرست کو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ۔ مصنوعات کے ڈیزائن اور پیکجنگ سے لے کر نمائش کی جگہوں اور تشہیری مواد تک ہر شعبے میں بہتری سامنے آئی ۔ روایتی ثقافتی عناصر کو گڑیا، آرائشی پینٹنگز اور ثقافتی انداز کے دستی پنکھوں جیسی مصنوعات میں تبدیل کر کے، سٹوڈیو نے وسیع تر مارکیٹس تک رسائی حاصل کی ہے اور اس کی مصنوعات اب جنوب مشرقی ایشیا بلکہ اس سے بھی آگے تک فروخت ہو رہی ہیں۔

چین کے صوبے گوئے جو کے شہر گوئیانگ کی چھن ین مارکیٹ میں مقامی خواتین کی بنائی گئی ، میاؤ قومیتی ملبوسات اور زیورات سے سجی گڑیاں ۔(پیپلز ڈیلی آن لائن – سارا افضل)
یہ تبدیلی چین کے پہاڑی اور اقتصادی طور پر پسماندہ علاقوں میں دیہی ترقی کے لیے ،ماحولیاتی تحفظ کو مقامی قدرتی اور ثقافتی وسائل کے موثر استعمال کے ساتھ منسلک کرنے کے ایک وسیع نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔ خصوصی تربیتی مراکز غیر مادی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں جب کہ تعاون پر مبنی ماڈل، گاؤں کے دستکاروں، خاص طور پر خواتین کو روایتی بنائی اور کشیدہ کاری کی تکنیک کو جدید فیشن اور ثقافتی مصنوعات میں ڈھالنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح سے ہدف پر مبنی مدد، مہارتوں کی ترقی اور مارکیٹ تک رسائی، مقامی ورثے کو "پائیدار روزگار" کے مواقع میں بدل سکتی ہے اور ساتھ ہی غربت کم کرنے اور دیہی کمیونٹیز کو ایک نئی زندگی دینے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔



