مقامی وقت کے مطابق 6 جولائی تک امریکی ریاست ٹیکساس کے وسطی علاقے میں آنے والے سیلاب میں کم از کم 79 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو چکے ہیں۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے 6 تاریخ کو ٹیکساس کو قدرتی آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا، اور فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے اس ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور وفاقی امداد فراہم کی ہے۔
اسی روز ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاست بھر میں 41 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں اور دیگر متعدد لاپتہ افراد ایسے ہیں جن کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں سے مزید سیلاب آنےکا امکان ہے، جس سے مزید جانی نقصان کا خدشہ ہے ۔ ریاست ٹیکساس اب امدادی سرگرمیوں میں توسیع کر رہی ہے۔ ٹیکساس کےوائس گورنر ڈین پیٹرک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ خلیج میکسیکو میں بننے والا سمندری طوفان بیری 29 جون کو میکسیکو کی ریاست تمولیپاس سے ٹکرایا تھا۔ اس کے ایک ہفتے بعد،اس طوفان کے باعث وسطی ٹیکساس کے پہاڑی علاقے میں شدید بارشیں ہوئیں، اور پھر 4 جولائی کی نصف شب سیلاب اس وقت پیش آیا جب مقامی افراد سو رہے تھے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں پیچیدہ جغرافیائی حالات نے لوگوں کے انخلا کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔