28 جولائی کو چین کے قومی محکمہ محصولات کے سربراہ حو جن لین نےچین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین کی "14 ویں پانچ سالہ منصوبہ بندی" کی مدت کے دوران ٹیکس اور فیس میں کمی کی پالیسیوں کے ایک سلسلے کی بدولت ملک کی معاشی ترقی اور لوگوں کے ذریعہ معاش کی بہتری کو مضبوط حمایت ملی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں سے ملک میں ٹیکس اور فیس کی کٹوتی کی کل مالیت 10.5 ٹریلین یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے اور برآمدی ٹیکس ریفنڈ 9 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرنے کی بھی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی مدت کے دوران چین کے محکمہ محصولات کی جانب سے جمع کردہ ٹیکس اور فیس کا کل حجم 155 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جس میں سے ٹیکس ریونیو 85 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرے گا، جو ملک کی 13 ویں پنج سالہ منصوبہ بندی کی مدت کے مقابلے میں 13 ٹریلین یوآن کا اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں چین کی معاشی و سماجی ترقی اور لوگوں کے ذریعہ معاش میں بہتری کے لئے مالی بنیاد کو مسلسل مضبوط بنایا گیا ہے۔
حو جن لین نے کہا کہ چین میں محکمہ ٹیکس کی جانب سے متعدد اقدامات کی بدولت اب 97 فیصد ٹیکس معاملات اور 99 فیصد ٹیکس اعلانات آن لائن یاموبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے کئے جاسکتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے 2024 کے ڈوئنگ بزنس اسسمنٹ کے نتائج کے مطابق 2019 میں پچھلے تخمینے کے مقابلے میں چین کے سالانہ ٹیکس ادائیگی کے وقت کو 78.2 فیصد کم کیا گیا ہے۔چین میں کاروباری ماحول کی مارکیٹائزیشن، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے.