بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے غلط ریمارکس اور متعلقہ کارروائیاں دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کے لیے خطرہ اور عالمی امن کے لیے اہم چیلنج ہیں۔
زیمبیا کے سابق وزیر انصاف ونٹر کبمبا نے کہا کہ " میں سمجھتا ہوں کہ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کے لیے خطرہ ہیں۔" دوسری جنگ عظیم کے بعد، مختلف ممالک (بشمول جاپان) نے جنگ کے تاریخی سبق سے سیکھنے کے لیے کئی امن معاہدوں پر دستخط کیے۔ نمیبیا کے نامور سیاسی تجزیہ کار روئی ٹائیٹیندے کا ماننا ہے کہ کچھ قوتیں شائد اب بھی 1945 سے پہلے کی جاپانی سلطنت کے دور کی پرانی یادوں کا شکار ہیں، لیکن دنیا اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔ جنوبی افریقی میڈیا کے ایک سینئر تجربہ کار ماکو نے کہا کہ لگتا ہے کہ سانائے تاکائیچی کشیدگی اور تناؤ پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ پوری دنیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کی پاسداری کرتی ہے، جو واضح طور پر تسلیم کرتی ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے۔ہم نوآبادیاتی نظام کی واپسی نہیں ہونے دیں گے۔



