مقامی وقت کے مطابق 2 فروری کو امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ انہوں نے اس صبح بھارتی وزیر اعظم مودی سے فون پر بات کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریق امریکہ-بھارت تجارتی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس کے تحت امریکہ کی طرف سے بھارت کے سامان پر عائد نام نہاد "مساوی ٹیرف" کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا جائے گا، جو فوری طور پر لاگو ہو گا۔بھارت بھی اسی طرح امریکہ کے لیے اپنے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک کم کر دے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مودی نے امریکی مصنوعات کی خریداری میں نمایاں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا، جس میں 500 بلین ڈالر سے زیادہ کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اجناس، کوئلہ اور دیگر بہت سی مصنوعات شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ بھارت روس سے تیل خریدنا بند کردے گا اور امریکہ سے مزید تیل خریدے گا ، جبکہ بھارت ممکنہ طور پر وینزویلا سے بھی تیل درآمد کر سکتا ہے۔
تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم، اسی روز وزیرِ اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ امریکہ نے بھارت سے امریکہ برآمد ہونے والی مصنوعات پر محصولات کی شرح کم کر کے 18 فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔



