
عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کا امریکی سبسڈی کے خلاف دیا جانے والا فیصلہ اس اصول کی توثیق کرتا ہے کہ کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے اور یک طرفہ تجارتی اقدامات کو کثیرالجہت نظام کے تحت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
31 جنوری کو ، عالمی تجارتی تنظیم کے ایک پینل نے چین کی شکایت کی حمایت کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا تھا کہ امریکا کے کلین انرجی سبسڈی اقدامات، عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے اور امریکا کو انفلیشن ریڈکشن ایکٹ (IRA) کے تحت متعلقہ سبسڈیز واپس لینا ہوں گی۔یہ فیصلہ چین کے جائز تجارتی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے اور مستقبل میں اس کے اثرات بڑی معیشتوں کے مابین تجارتی طرزِ عمل پر مرتب ہوں گے۔
آئی آر اے میں ایسی امتیازی شقیں شامل ہیں جو صاف توانائی کے صرف ان منصوبوں کے لیے سبسڈیز فراہم کرتی ہیں جو مقامی سٹیل، لوہے اور دیگر مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ روایتی تحفظ پسندی کی ایک ایسی واضح مثال ہے جو عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز کرتی ہے اور اقتصادی ترقی کی رفتار کو پیچھے کی جانب دھکیلتی ہے۔ اس سے بین الاقوامی قوانین کے مقابلے میں اپنے مفادات کو ترجیح دینے کی امریکی کوششوں کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔
امریکا ، کثیر الجہت تجارتی نظام کا بانی اور اس سے مستفید ہونے والا ملک ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ خود ہی اس نظام میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ امریکا ، اپنی مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کر نے کے لیے اکثر یکطرفہ تجارتی اقدامات کا سہارا لیتا ہے، محصولات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے اور سبسڈی پالیسیز کا غلط استعمال کرتا ہے تاہم عالمی تجارتی تنظیم کے رکن کی حیثیت سے وہ اپنی ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کرتا ہے۔
آئی آر اے کے معاملے میں، امریکا نے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے "عوامی اخلاقیات کے تحفظ" کو وجہ بنایا ، جسے مکمل تحقیقات کے بعد عالمی تجارتی تنظیم کے پینل نے مسترد کر دیا۔ یہ اس بات کو مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یکطرفہ رویہ، جو بین الاقوامی کمیونٹی کے مشترکہ مفادات کے خلاف ہے، بین الاقوامی قوانین کی پابندیوں سے نہیں بچ سکتا۔ یہ فیصلہ عالمی تجارتی نظام کے تحفظ کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کثیرالجہت تجارتی نظام اب بھی معتبر ہےاور طاقت کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرنے کی کوئی بھی کوشش آخرکار ناکام ہو جائے گی۔
ایک ایسے دور میں جب عالمی معیشت بے یقینی کا سامنا کر رہی ہے اور کثیر الجہت تجارتی نظام کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں یہ فیصلہ کثیر الجہت نظام کے کردار کو اجاگر کرتا ہے جو کہ عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کی استحکام میں خلل کو کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔امریکا نے بار ہا عالمی تجارتی تنظیم کے تنازعات کا تصفیہ کرنے کے نظام کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے، جیسے کہ اس کی اپیلیٹ باڈی میں نئی تقرریوں کو روکنا،لیکن ان قوانین کو نظر انداز کرنا اور اپنی ذمہ داریوں سے بچنا صرف اس کی اپنی ساکھ اور مفادات کے لیے نقصان دہ ہے لہذا امریکا کو اس فیصلے کا سامنا کرنا چاہیے اور سنجیدگی سے اپنی غلطیوں کو درست کرنا چاہیے۔
چین، ایک بڑے ،ذمہ دار ملک کے طور پر ہمیشہ سے عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کا مضبوط محافظ اور بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام کا حامی رہا ہے۔ چین کا عالمی تجارتی تنظیم کے تنازعات کے حل کے نظام سے رجوع کرنے لینے کا فیصلہ قانون کی حکمرانی کی پاسداری اور کثیرالجہتی کے لیے چین کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
امید ہے کہ تمام ممالک مل کر کثیرالجہت تجارتی نظام کی اتھارٹی کا دفاع کریں گے، یکطرفہ پن اور تجارتی تحفظ پسندی کے خلاف مزاحمت کریں گے اور عالمی تجارت کی مستحکم اور مثبت ترقی کو فروغ دیں گے۔



