مقامی وقت کے مطابق 5 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ روس کے ساتھ نئے اسٹریٹجک ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے کو "توسیع" نہیں دی جانی چاہیے، بلکہ اس کی جگہ امریکی جوہری ماہرین کو ایک "نیا، بہتر اور جدید معاہدہ" تیار کرنا چاہیئے۔
بعد ازاں ، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک بریفنگ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال امریکہ اور روس کے درمیان مذاکرات کے دوران معاہدے پر "عارضی طور پر عمل درآمد" سے متعلق کوئی انتظام نہیں ہے۔ امریکہ روس کے ساتھ متعلقہ مسائل پر بات چیت جاری رکھے گا، لیکن اس کا مقصد پرانے فریم ورک کو برقرار رکھنے کے بجائے ایک نیا معاہدہ قائم کرنا ہے جو موجودہ اسٹریٹجک ماحول کے مطابق ہو۔ یاد رہے کہ روس اور امریکہ نے 2010 میں نئے اسٹریٹجک ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی جانب سے تعینات کیے جانے والے جوہری وار ہیڈز اور ڈیلیوری آلات کی تعداد کو محدود کرنا تھا۔ یہ معاہدہ 5 فروری 2011 کو باضابطہ طور پر نافذ ہوا اور بعد میں مذاکرات کے ذریعے اسے 5 فروری 2026 تک بڑھا دیا گیا۔ 2019 میں انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی (آئی این ایف ٹریٹی) کی میعاد ختم ہونے کے بعد یہ روس اور امریکہ کے درمیان آرمز کنٹرول کا واحد معاہدہ ہے۔ فی الحال، فریقین معاہدے کی توسیع یا کسی متبادل پر کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچے ہیں۔



