• صفحہ اول>>دنیا

    روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور بنیادی مسائل پر خاطر خواہ پیش رفت کے بغیر ختم ہو گیا

    (CRI)2026-02-06

    روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں سہ فریقی مذاکرات کا دو روزہ دور 5 تاریخ کو اختتام پذیر ہوا۔ تاہم، علاقے اور جنگ بندی جیسے بنیادی مسائل پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، اور نہ ہی متعلقہ سیاسی اور سلامتی امور پر کوئی مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔

    دوسرے دن کی بات چیت تین گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ اسی دن روس اور یوکرین نے قیدیوں کے تبادلے کا ایک نیا دور مکمل کیا۔ دونوں جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے 157 قیدی رہا کیے، جس سے مجموعی طور پر 314 افراد کا تبادلہ ہوا۔ یہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پہلا بڑے پیمانے پر قیدیوں کا تبادلہ ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بتایا کہ رہائی پانے والے یوکرینیوں میں فوجی اہلکار اور عام شہری شامل ہیں اور وہ یوکرین واپس آگئے ہیں۔

    ادھر امریکی صدارتی ایلچی وٹکوف نے کہا ہے کہ امریکہ، یوکرین اور روس کے نمائندے قیدیوں کے تبادلے پر ایک معاہدے پر پہنچ گئےہیں۔ انہوں نے مذاکرات کو "ٹھوس اور تعمیری" قرار دیا، لیکن یہ بھی تسلیم کیا کہ تنازعے کے جامع حل کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ذرائع کے مطابق، اس بات چیت کے دوران "علاقائی تنارعہ" حل نہیں ہوا۔ روس نے ڈونباس کے علاقے سے یوکرینی فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا،جسے یوکرین نے مسترد کر دیا۔

    ویڈیوز

    زبان