مقامی وقت کے مطابق 8 تاریخ کو اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے سے متعلق اراضی ، منصوبہ بندی اور انتظامی اختیارات پر مشتمل متعدد اہم اقدامات کی منظوری دے دی۔ ان اقدامات میں یہودیوں پر مغربی کنارے میں زمین خریدنے کی سابقہ پابندی کے قانون کا خاتمہ، الخلیل شہر میں اسرائیلی یہودی بستیوں کی تعمیر کے اجازت ناموں کا اختیار اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن کو منتقل کرنا، اور اسرائیلی حکومت کی نام نہاد نگرانی و نفاذ کی کارروائیوں کو مغربی کنارے کے "اے ایریا" تک توسیع دینا شامل ہے۔
اسی روز فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی کابینہ کے مغربی کنارے سے متعلق فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلے مجموعی طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
ادھر فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ موجودہ اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کی حکومت جنگ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے اور فلسطینی جغرافیائی خطے کے مختلف حصوں سے فلسطینی وجود کو ختم کرنا چاہتی ہے۔



