• صفحہ اول>>دنیا

    یورپ و امریکہ کی کئی سیاسی و کاروباری شخصیات ایپ اسٹین اسکینڈل زد میں ، متعدد مستعفی

    (CRI)2026-02-10

    امریکی محکمۂ انصاف نے 30 جنوری کو ایپ اسٹین کیس سے متعلق 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات منظرِ عام پر جاری کیں، جن میں امریکہ، برطانیہ، ناروے، سلوواکیہ سمیت یورپ و امریکہ کے کئی ممالک کی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام ایپ اسٹین سے وابستگی کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔ ان انکشافات کے بعد متعدد معروف شخصیات شدید دباؤ کا شکار ہو گئیں جبکہ کئی افراد کو عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے 8 فروری کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایپ اسٹین کیس سے متعلق دستاویزات نے مغربی اشرافیہ کے"حقیقی چہرے" کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    برطانیہ میں وزیر اعظم آفس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر ٹِم ایلن نے 9 فروری کو ایک بیان میں اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ اس سے ایک روز قبل برطانوی وزیر اعظم کے چیف آف سٹاف مورگن میکسوینی نے بھی استعفیٰ دیا تھا، جس کی وجہ سابق برطانوی سفیر برائے امریکہ پیٹر مینڈلسن کا ایپ اسٹین کیس میں نام سامنے آنا بتایا گیا ہے۔

    ناروے کی وزارت خارجہ نے 8 فروری کو اعلان کیا کہ اس نے اردن اور عراق میں ناروے کی سفیر مونا یول کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ سینئر سفارتکار ایپ اسٹین سے تعلقات سامنے آنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکی ہیں۔

    فرانس میں 7 فروری کو سابق وزیرِ ثقافت ژاک لانگ نے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل باروٹ کو عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ پیش کر دیا۔ جاری کردہ دستاویزات کے مطابق ایپ اسٹین کے ژاک لانگ اور ان کی بیٹی کے ساتھ روابط تھے۔

    ان انکشافات کے بعد مغربی ممالک میں سیاسی اور سماجی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ ایپ اسٹین کیس ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان