• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پاکستان میں چین کے بارے میں مثبت رائے  عامہ  میں نمایاں اضافہ -تحقیقی رپورٹ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-02-10

    حال ہی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا سٹڈیز کی جانب سے جاری کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ،پاکستان میں 2015 سے 2025 کے دوران چین کے بارے میں مثبت رائے عامہ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات ،سی پیک میں کامیاب پیش رفت اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015 میں چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو ہمہ موسمی تعاون پر مبنی سٹریٹجک شراکت داری کی اعلی سطح تک لے جانے کے بعد نہ صرف سرکاری سطح پر باہمی اعتماد مضبوط ہوا بلکہ عوامی سطح پر دوستی اور تبادلوں نے بھی فروغ پایا۔

    پاکستان کے معروف اخبار ڈان کے مطابق، یہ تحقیقی رپورٹ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا سٹڈیز اور پاکستان میں ورلڈ بینک کے دفتر کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سوال نامے کے ذریعے تحقیقی نتائج مرتب کیے گئے جس میں پاکستانی حکومت، سماجی تنظیموں، کاروباری اداروں، تھنک ٹینکس اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی شرکت کی۔

    2015 میں چین اور پاکستان نے ہمہ موسمی تعاون پر مبنی سٹریٹجک شراکت داری قائم کی اور دونوں حکومتوں نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے گوادر بندرگاہ، توانائی، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون پر مشتمل "4+1 "اقتصادی تعاون کے فریم ورک کا تعین کیا، جس کے بعد سی پیک کی تعمیر تیزی سے آگے بڑھی۔ رپورٹ کے مطابق، سی پیک منصوبوں کی تیز رفتار پیش رفت کے ساتھ ساتھ چین اور پاکستان کے متعدد مشترکہ منصوبے بھی عملی شکل اختیار کر گئے، جس سے بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے معاشی و سماجی فوائد اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان عملی تعاون نے پاکستانی عوام میں چین پر اعتماد کو فروغ دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی چینی اور پاکستانی میڈیا کے درمیان دوستانہ تعاون سے مثبت رپورٹنگ نے بھی پاکستانی عوام کے چین کے بارے میں اچھے تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان میں رابطہ سازی کے نظام میں بہتری آئی، امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی اور کاروباری ماحول مزید سہل ہوا، اور ان تمام تبدیلیوں کا چین-پاکستان اقتصادی راہداری سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ، چین اور پاکستان کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور علمی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ تعلیم کے لیے چین جا رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کے لیے چینی زبان سیکھنا اب محض شوق نہیں بلکہ روزگار اور تعلیمی ضرورت بن چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی سطح پر روابط نے پاکستانی عوام میں چین کے ساتھ دوستی کو ایک مضبوط احسساس بنیا دیا ہے اور مستقبل میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے "2.0 اپ گریڈ ورژن" کی تعمیر پاکستانی عوام میں چین کے بارے میں مزید مثبت جذبات کو فروغ دے گی۔

    گوادر بندرگاہ کا مچھیروں کے ایک گاؤں سے علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا، لاہور میٹرو اورنج لائن کا تاریخی شہر کی ترقی کو نئی توانائی دینا، سکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے سے توانائی کی فراہمی کا آغاز اور سبز منتقلی میں کردار نیز خنجراب پاس کا سال بھر کھلا رہنا،یہ سب چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے نمایاں نتائج ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں سی پیک نے پاکستان کو مجموعی طور پر 25.93 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری، روزگار کے 2 لاکھ 61 ہزار مواقع، 510 کلومیٹر موٹرویز، بجلی کی 8 ہزار میگاواٹ سے زائد پیداوار اور 886 کلومیٹر بنیادی ٹرانسمیشن لائن فراہم کی ہے۔ ڈان اخبار کے مطابق، چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان کے انفراسٹرکچر، توانائی کے ڈھانچے اور تجارتی نظام کو گہرائی سے تبدیل کر دیا ہے۔

    پاکستان کے نیشنل میڈیا گروپ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نورین چوہدری نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں بجلی کی طویل دورانیے کی بندش کے باعث فیکٹریز بند ہو جاتی تھیں اور طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی تھی، چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے جدید بجلی کے منصوبے اور بجلی کی مستحکم فراہمی ممکن بنائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جنہیں پاکستانی عوام حقیقت میں محسوس کر سکتے ہیں، اور اسی لیے پاکستان چین کو اپنا حقیقی دوست اور شراکت دار سمجھتا ہے ۔

    ویڈیوز

    زبان