12فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026 میں، اولمپک مشعل ایک مرتبہ پھر سے اٹلی میں روشن ہوائی جو 20 سال بعد ملک میں ونٹر سپورٹس کی واپسی کی علامت ہے۔ ٹورن 2006 کے بعد سے دو دہائیوں میں برف پر چھوڑے گئے نشانات نئے افسانوں سے بدل گئے ہیں تاہم، ان ونٹر سپورٹس کی کہانیاں اب بھی زندہ ہیں۔
جانگ دان ، سابق چینی پیئر فگر سکیٹر ہیں ، 20 سال پہلے اولمپکس مقابلوں سے لے کر آج اپنی بیٹی کو سپن اور جمپ کی تربیت دینے تک انہوں نے فگر سکیٹنگ کے ساتھ ایک مضبوط تعلق برقرار رکھا ہے۔ متعدد مرتبہ کی عالمی چیمپئن جانگ دان نے اپنے ساتھی جانگ ہاؤ کے ساتھ ٹورن 2006 کے ونٹر اولمپکس میں پیئر فگر سکیٹنگ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
مقابلے سے ریٹائر ہونے کے بعد، جانگ نے نوجوانوں کے لیے ایک فگر سکیٹنگ ٹریننگ اکیڈمی قائم کی اور چین کے پہلے اوریجنل آئس ڈانس ڈرامے میں نظر آئیں۔ اس کی بیٹی، چھی چھی کو والدہ کی مہارتیں ورثے میں ملی ہیں اور اب وہ اس کھیل میں خود کو منوانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایک کوچ کے طور پر، جانگ کو امید ہے کہ چھی چھی بہترین نتائج دے گی ؛ ایک ماں کے طور پر، وہ چاہتی ہے کہ ان کی بیٹی فگر سکیٹنگ کے ذریعے زیادہ مضبوط اور بہادر بنے۔
جانگ نے کہا کہ اولمپک کا جذبہ ان کی زندگی کے ہر پل میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کے لیے، حریفوں کو شکست دینے سے زیادہ اہم خود کو اپنی پرانی شخصیت سے بہتر بنانا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے اپنے خوابوں کے لیے بے انتہا محنت کی ہے اور اولمپک کا جذبہ ہمیں زندگی کے طویل سفر میں زیادہ بہادر، مضبوط، منظم اور متوازن رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔



