
مقامی وقت کے مطابق یکم مارچ کو متعدد ممالک کی حکومتوں اور تنظیموں کے رہنماؤں نے ایران کی حالیہ صورتحال اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل سے متعلق بیانات جاری کیے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سربراہان اور حکومتی قائدین کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، یہ ایک طویل عرصے سے تسلیم شدہ بین الاقوامی روایت ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے یکم مارچ کو ایران کی صورتحال پر دوبارہ بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلسل لڑائی کے باعث عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معطل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں خطے سے تیل اور گیس کی برآمدات رک سکتی ہیں اور عالمی توانائی منڈی کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ روس نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، فوجی کارروائیاں روکنے اور اقوام متحدہ کے منشور اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی بنیاد پر سیاسی و سفارتی حل کی راہ پر واپس آنے کی اپیل کی۔
لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے یکم مارچ کو کہا کہ حزب اللہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے خامنہ ای سمیت دیگر ایرانی عہدیداروں اور عام شہریوں کے خلاف "مجرمانہ اور ظالمانہ جارحیت" کی ہے۔



