• صفحہ اول>>دنیا

    متعدد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی مذمت، بات چیت کی بحالی کا مطالبہ

    (CRI)2026-03-02

    28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے کیے ،ردعمل میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں متعدد امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں، مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے امریکا-اسرائیل فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے دوبارہ سے بات چیت کا آغاز کریں۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تنازع کے بڑھنے پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ اپنی تقریر میں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ پائیدار امن صرف پرامن طریقوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی کارائیوں کو روکیں ،کشیدگی کم کریں، اور فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

    عرب لیگ نے اپنے ایک بیان میں موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ،بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدہ صورتحال کو جلد از جلد بہتر کرنے کی کوشش کرے تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کو روکا جا سکے ۔

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایدھانوم گیبریاسس نے اپنے بیان میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ممالک کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ تباہی کے بجائے مکالمے کا راستہ منتخب کریں۔

    افریقی یونین کمیشن کے صدر محمود علی یوسف نے کہا کہ امریکااور اسرائیل کی جانب سے ایران پر عسکری کارروائی مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھنے کی علامت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال مزید خراب ہونے سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہوگا اور انرجی مارکیٹ، خوراک کے تحفظ اور اقتصادی بحالی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے متعدد عرب ممالک کے سربراہان سے ٹیلیفونک بات چیت کی اور کہا کہ مصر عرب ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی شدید مذمت اور مخالفت کرتا ہے۔ عسکری حل کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں، موجودہ بحران مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے اور یہ خطے میں افراتفری پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ بات چیت اور سفارتی حل کے راستے پر واپس آئیں تاکہ تنازعات کا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔

    کیوبا، کولمبیا، جنوبی افریقا کے صدر، پرتگال کے وزیر اعظم اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر عسکری حملے کی مذمت کی اور شدید تشویش کا اظہار کیا۔

    برازیل، ترکیہ، لیبیا، الجزائر، آذربائیجان، جارجیا، یوراگوئے، نیوزی لینڈ، پیرو، میکسیکو، چلی اور وینزویلا سمیت متعدد ممالک نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے اپیل کی کہ بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دیں اور خطے کی صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچائیں

    ویڈیوز

    زبان