
27 جنوری۔ مشرقی چین کے صوبے جیانگ شی کے شہر یی چھون کے ایک رہائشی کمپلیکس میں چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی یی چھن میونسپل کمیٹی کی ایک رکن (بائیں) ، یہاں رہائش پذیر ایک خاتون سے رائے لے رہی ہیں۔ (تصویر/جو لیانگ)
چین کے قانون سازی کے اعلیٰ ترین اجلاس "لیان خوئے" یعنی "دو سیشنز" ، چین کی اعلی مقننہ، قومی عوامی کانگریس (این پی سی) اور اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے، چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (سی پی پی سی سی) کی سالانہ میٹنگز ، چینی جدیدیت کا مشاہدہ کرنے اور چین میں جامع عوامی جمہوریت کے عمل کوسمجھنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔ایک اولین اور واضح تصور کے طور پر، جامع عمل کی عوامی جمہوریت چینی عوام کی زندگیوں میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔
اس سال کے "دو سیشنز" میں پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے مسودے پر غور کرنا سب سے اہم ہے اور اس منصوبے کی تشکیل کا عمل جامع عوامی جمہوریت کا ایک واضح نمونہ ہے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کی تشکیل کے لیے 20مئی سے 20 جون 2025 تک، ایک آن لائن عوامی مشاورت کا انعقاد کیا گیا۔ اس اقدام میں 3.11 ملین سے زیادہ تجاویز موصول ہوئیں، جن میں 27 موضوعات پر 1,500 سے زیادہ تعمیری مشورے شامل تھے۔ڈرافٹنگ گروپ نے ان آرا کا بغور مطالعہ کیا اور ان میں سے بہت سی آرا ،منصوبے کے متعلقہ پالیسی اقدامات میں نظر آتی ہیں۔
2025 کے آخر تک، قومی عوامی کانگریس کی مستقل کمیٹی کے کمیشن برائے امور قانون سازی نے بنیادی سطح کی قانون سازی کے 60آؤٹ ریچ دفاتر قائم کیے، جن سے بالواسطہ طور پر صوبائی اور بلدیاتی سطح پر 7,800 سے زیادہ ایسے دفاتر کے قیام کو فروغ دیا۔ 2025 میں، 1,400 سے زیادہ سی پی پی سی سی کے اراکین نے عوامی جذبات پر 12,000 سے زیادہ رپورٹس پیش کیں۔ عوامی رائے کی عکاسی کے لیے یہ متنوع چینلز عوام اور حکام کے مابین اہم پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔

7 فروری کو جنوب مغربی چین کے صوبے سچوان کے گاوں یونگ شنگ میں گاؤں کی کمیٹی کے انتخابات کے موقع پر ایک خاتون اپنا ووٹ ڈال رہی ہیں۔ (تصویر/پھینگ منشیانگ من شیانگ)
ایک ایسی جمہوریت جس میں عوام کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے،اس نے "مائیکرو گورننس" کو زیادہ متحرک اور مؤثر بنا دیا ہے۔
چین کے صوبے جیانگ سو کے شہر یانگ جو کی ڈسٹرکٹ ، گوانگ لینگ کی سب ڈسٹرکٹ وین حہ میں "پیپلز لائیولی ہڈ ٹی ہاوس" میں، عوامی کانگریس کے مختلف سطحوں کے نمائندے، سی پی پی سی سی کی مقامی کمیٹی کے اراکین، اور مقامی رہائشی جمع ہوتے ہیں تاکہ عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے مسائل پر بات چیت کریں۔ وہاں، رہائشیوں کے خدشات و تحفظات کا جواب دیا جاتا ہے اور کچھ تجاویز فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچائی جاتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں، یکے بعد دیگرے اسی طرح کے اور بھی پلیٹ فارم قائم کیے گئے ہیں، جس سے بنیادی سطح کی حکمرانی کو زیادہ ہموار اور مؤثر بنایا گیا ہے۔کھیتوں اور کارخانوں سے لے کر ہسپتالوں، سکولز اور کمیونٹیز تک، این پی سی کے نمائندے اور سی پی پی سی سی کے اراکین پوری محنت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، عوام کی رائے طلب کرتے ہیں، اور تجاویز کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرتے ہیں جو حقیقی فوائد فراہم کرتے ہیں۔
2025 میں، این پی سی کے نمائندوں کی جانب سے جمع کرائی گئی تمام 269 تحریکوں اور 9,160 تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور ان پر کارروائی کی گئی اور نمائندوں کو جوابات فراہم کیے گئے۔ سی پی پی سی سی اراکین کی جانب سے جمع کرائی گئی 5,900 سے زائد تجاویز میں سے 5,000 سے زیادہ کو درج کیا گیا، اور کچھ تجاویز متعلقہ پالیسی دستاویزات میں شامل کی گئیں۔

25 فروری ۔ یانگ یونگ شہر شو جو کے گاوں چھی شان کے سربراہ اور قومی عوامی کانگریس کے نائب، یانگ یونگ(بائیں سے دوسرا)، مقامی کسانوں سے گندم کی پیداوار کے بارے میں معلومات کے رہے ہیں۔ (تصویر/کھوائی چھوانگ)
مکمل عمل" کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ پورے سلسلے میں چلتا ہے، تمام جہتوں پر محیط ہوتا ہےاور تمام شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔"
خوراک کے تحفظ کی عوامی تشویش کے معاملے پر، مئی سے ستمبر 2025 تک، قومی عوامی کانگریس کی مستقل کمیٹی نے قانون کے نفاذ کا جائزہ لیا۔ معائنہ ٹیم نے عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے دو نائبین کی قیادت میں 10 دیگر نائبین کو شامل کیا، جنہوں نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ ٹیم نے 488,200 جوابات اور 119,800 عوامی تجاویز کے ساتھ ایک سروے بھی کیا۔ معائنے کے دوران، این پی سی سٹینڈنگ کمیٹی نے قانون میں ترامیم کیں، مقامی حکومتوں کی ذمہ داریوں کو بہتر بنایا، اور خوراک کے تحفظ کے لیے سماجی حکمرانی کا فریم ورک مستحکم کیا۔
جامع عمل کی عوامی جمہوریت عارضی یاحصوں میں نہیں ہے؛ یہ جمہوری انتخابات، مشاورت، فیصلہ سازی، انتظام اور نگرانی کے ہر پہلو میں شامل ہے۔ یہ سیاسی اور سماجی زندگی کے تمام شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے، بشمول اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، سماجی، اور ماحولیاتی ترقی۔یہ طریقہ ان نظاموں کے مسئلے کو حل کرتا ہے جہاں لوگ صرف انتخابات کے دوران شامل ہوتے ہیں اور پھر غیر فعال ہو جاتے ہیں۔
بہتر زندگی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، جمہوریت کو مسلسل، عوام کی ضروریات کا جواب دینا چاہیے۔ یہ جوابدہی چین کی جامع عمل کی عوامی جمہوریت کو کچھ مغربی ممالک کے انتخابی مرکزیت والے ماڈلز سے ممتاز کرتی ہے، جو اس کے اہم فوائد کو اجاگر کرتی ہے۔
چین کی ترقی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ جمہوریت جو کسی ملک کے مخصوص حالات کے مطابق ہو،صرف وہی قابل اعتماد اور مؤثر ہو سکتی ہے۔ "جامع عمل" عوامی جمہوریت کی خاص خصوصیات انسانی سیاسی تہذیب کی شکلوں کو وسعت دیتی ہیں اور بہتر سماجی نظاموں کی تلاش کے لیے ایک چینی نقطہ نظر پیش کرتی ہیں۔
مستقبل میں بھی چین ، اپنے قومی حالات کے مطابق جمہوری ترقی کا راستہ اختیار کرنا جاری رکھے گا، دوسرے ممالک کے لیے اپنی جمہوری ترقی کے راستے کا منتخب کرنے کی آزادانہ طور پر وکالت اور حمایت کرے گا اور تمام انسانیت کے لیے جمہوریت کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرے گا۔



