
4 مارچ کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کی ٹرمپ حکومت کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
اسی روز اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فضائیہ ایران پر حملوں کے دوران 5000 سے زائد بم گرا چکی ہے۔
4 مارچ کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکی فوج دو ہزار سے زائد ایرانی اہداف کو نشانہ بنا چکی ہے، بڑی تعداد میں میزائل، لانچر اور ڈرون تباہ کیے گئے ہیں، جبکہ 20 سے زائد ایرانی بحری جہاز، جن میں ایک آبدوز بھی شامل ہے، ڈبو دیے گئے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ 3 مارچ کو امریکی آبدوز نے بحرِ ہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز کو غرق کیا۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ ان کی بحریہ نے امریکی حملے کا نشانہ بننے والے ایرانی جہاز کے قریب سے 87 لاشیں برآمد کی ہیں۔
دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت کے ہنگامی آپریشن مرکز نے 4 مارچ کو اعلان کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئے دور کی جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 72 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 83 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔



