• صفحہ اول>>تبصرہ

    دنیا ، چین کےدو سیشنز  سے ترقی کی ضمانت تلاش کر رہی ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-05

    4مارچ کو چین کے قومی دو اجلاسوں (قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس) کا آغاز ہوا اور عالمی توجہ بیجنگ پر مرکوز ہو گئی۔ عالمی سطح پر جیو پولیٹکس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی حالات کے پس منظر میں چین ایک بار پھر بین الاقوامی برادری کے لیے توقعات کے استحکام کا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ یقین، تین بنیادی ستونوں سے جنم لیتا ہے: منصوبہ بندی کی رہنمائی، ترقی کی لچک، اور کھلے پن پر ثابت قدمی۔

    چین کا یہ تیقن، سب سے پہلے طویل مدتی منصوبہ بندی کی سائنسی رہنمائی سے آتا ہے۔ 1953 میں پہلے پانچ سالہ منصوبے کے نفاذ کے بعد سے چین 14 پانچ سالہ منصوبوں کا کامیاب نفاذ کر چکا ہے۔ آج "چینی منصوبہ بندی" کو بین الاقوامی سطح پر "عصرِ حاضر میں دنیا کے سب سے منفرد اور مؤثر نیشنل گورننس ماڈلز میں سے ایک" سمجھا جاتا ہے۔ رواں سال کے دو سیشنز کے اہم موضوعات میں شامل پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں توجہ ،جدید صنعتی و بنیادی ڈھانچے کے نظام، سائنسی و تکنیکی اختراع نیز سبز اور کم کاربن منتقلی جیسے طویل مدتی اہداف پر مرکوز ہے، جس سے دنیا کو پیش گوئی کے قابل مارکیٹ کے مواقع اور ترقی کے ثمرات نظر آتے ہیں۔ ہنگیریئن ورکرز پارٹی کے چیئرمین ، گیولا ٹلمر کا کہنا ہے کہ ایک ایسا چین جس کی منصوبہ بندی واضح ہو، اہداف متعین ہوں اور کھلے پن میں تسلسل ہو،وہ نہ صرف چین کے لیے خوش بختی ہے بلکہ یہ دنیا کے لیے بھی نعمت ہے۔

    چین کا یقین، ترقی کی مضبوط لچک سے بھی وابستہ ہے، جو عالمی معیشت میں اس کے استحکام کی مضبوط بنیاد ہے۔ 2025 میں چینی معیشت نے دباؤ کے باوجود 5 فی صد کی شرحِ نمو حاصل کی اور اقتصادی اضافہ 5 کھرب یوآن سے تجاوز کر گیا۔چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین عالمی سطح پر متعدد صنعتی و تکنیکی شعبوں میں سبقت حاصل کر چکا ہے۔ سائنس و صنعت کا گہرا انضمام ،چین کو جیو پولیٹیکل عوامل کے منفی اثرات سے نمٹنے کے قابل بناتا ہے، اسی لیے متعدد بین الاقوامی اداروں نے 2026 کے لیے چین کی اقتصادی نمو کی پیش گوئیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    چین کا یقین، کھلے پن پر ثابت قدمی سے عمل پیرا رہنے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اعلیٰ معیار کے کھلے پن پر پر مستقل مزاجی سے عمل نے چین کو عالمی معیشت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے رکھا ہے اور دنیا کے ساتھ مواقع بانٹنے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ اس وقت چین 150 سے زائد ممالک اور خطوں کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور مسلسل 17 برس سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی منڈی ہے۔ چودھویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت میں چین کی بیرونی سرمایہ کاری نے میزبان ممالک کے لیے مجموعی طور پر 300 ارب ڈالر سے زائد ٹیکس آمدن پیدا کی۔ رواں سال کے آغاز سے ہی متعدد ممالک کے تجارتی و اقتصادی وفود چین کا دورہ کر رہے ہیں، جبکہ چین-جرمنی اور چین-امریکا چیمبرز آف کامرس کے سروےظاہر کرتے ہیں کہ کثیرالقومی کمپنیز چین میں اپنی سرمایہ کاری مسلسل بڑھا رہی ہیں۔ یہ حقائق عالمی معیشت کے "اینکر" کے طور پر چین کی قدر کو ثابت کرتے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت کو فوری طور پر استحکام کی ضرورت ہے، پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز کرتا ہوا اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی سمت آگے بڑھتا ہوا چین، ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد اور معاون شراکت دار رہے گا اور ایک ہنگامہ خیز دنیا کو سب سے قیمتی اور نایاب چیز"یقین"فراہم کرتا رہے گا۔

    ویڈیوز

    زبان