• صفحہ اول>>کاروبار

    بچوں کی دیکھ بھال میں ،خاندانوں کی معاونت کے لیے چین کے ملٹی بلین یوان سبسڈی سسٹم  کے زندگیوں پر اثرات

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-10

    دسمبر 2025 کے آخر میں, چین کے صوبے گانسو کے گاؤں لی جیا وان کے 36 سالہ مزدور ، لی کے فون پر آنے والے نوٹیفیکیشن نے اس کے چہرے پر بےانتہا خوشی اور اطمینان کے رنگ بکھیر دیئے ۔ اس کے اکاؤنٹ میں 7,200 یوان (تقریباً $1,000) کی جمع رقم آ ئی تھی۔ لی ایک دیہاڑی دار مزدور ہے وہ گھر کا واحد کفیل ہے جس کی تین بیٹیاں ہیں۔ اس کی اہلیہ بیمار ہے اور اس کی چھوٹی دونوں بچیاں جڑواں ہیں جن کی پیدائش جون 2023 میں ہوئی تھی ۔ لی کے لیے یہ رقم ایک نعمت تھی۔

    اگست 2025 میں، جب لی کو بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے چین کی نئی سبسڈی پالیسی کے بارے میں معلوم ہوا، تو لی نے وی چیٹ کے ذریعے درخواست دی۔ آن لائن تمام معلومات فراہم کرنے اور درخواست جمع کروانے میں اسے محض دس منٹ لگے ۔ لی کو موصول ہونے والی رقم اس کی دو ماہ کی آمدن کے برابر ہے اس کا کہنا ہے کہ اس رقم میں سے زیادہ تر جڑواں بچیوں کے لیے خاص فارمولا دودھ اور ڈایپرز پر خرچ ہوئی ، جس سے ایک بہت بڑا مالی دباؤ کم ہوا۔

    نیشنل چلڈرن سبسڈی سسٹم 28 جولائی 2025 کو متعارف کروایا گیا تھا ۔ نئی پالیسی کے تحت، جن خاندانوں کے بچے یکم جنوری 2022 کے بعد پیدا ہوئے ہیں، انہیں فی بچہ ، مسلسل تین سال کے لیے سالانہ 3,600 یوان (تقریباً $500) کی سبسڈی ملے گی۔نیشنل ہیلتھ کمیشن کے سربراہ ، لئے حائی چھاو نے ہفتے کے روز سرکردہ قانون سازوں کے سالانہ اجلاس کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین کے 33 ملین سے زیادہ خاندان ،جو اس شرط پر پورا اترتے تھے انہوں نے اس سبسڈی سے استفادہ کیا۔

    لئے حائی چھاو کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مالی سرمایہ کاری اہم ہے۔ مرکزی حکومت نے اس اقدام کے لیے 90 ارب یوان (12.5 ارب ڈالر) سے زائدمختص کیے ، جب کہ مقامی حکومتیں 10 ارب یوان (1.4 ارب ڈالر) سے زیادہ کا تعاون کر رہی ہیں۔ اب تک، کل خرچ 100 ارب یوان (13.9 ارب ڈالر) سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ حقیقی سماجی تحفظ اور لوگوں کی بھلائی کے لیے چین کے حقیقی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

    لی جیا وان گاؤں کے مزدور لی کو موصول ہونے والے 7,200 یوان (1000 ڈالر) ،اس 100 ارب یوان کے منصوبے کی عملی نمائندگی کرتے ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے چین کے اولین ،متحدہ سبسڈی سسٹم کی پالیسی کو آغاز سے لے کر لاکھوں خاندانوں میں فنڈز تقسیم کرنے تک تقریباً چھ ماہ کا عرصہ لگا۔

    سچوان یونیورسٹی کے پبلک ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر وانگ جو ، اس تبدیلی کو "لوگوں میں سرمایہ کاری" قرار دیتے ہیں۔ یہ چین کے "ڈیموگرافک" نقطہ نظر میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جو اس وقت سے آگے بڑھ رہی ہے کہ جب اقتصادی ترقی کے لیے "ڈیموگرافک " فوائد سے استفادہ کرنے پر انحصار کیا جاتا تھا، اب یہ آبادی کی ترقی میں دوبارہ سے مالی وسائل کی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ لاکھوں خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کر کے، حکومت یہ ظاہر کر رہی ہے کہ بچے کی پرورش کا خرچ صرف ایک نجی خاندانی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی فرض ہے۔

    تاہم، نقد امداد صرف آغاز ہے۔براہ راست سبسڈیز سے آگے، زچگی، والدین بننے اور تعلیم کے لیے ایک جامع معاونت کا نیٹ ورک تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔ 2025 میں 890,000 سبسڈائزڈ ڈے کیئر سلاٹس کے اضافے کے بعد، 2026 میں چین ،مزید 150,000 کا اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مزید برآں، صوبائی سطح کے تمام 31علاقوں نے اب عوامی صحت کے انشورنس نظام میں معاون تولیدی ٹیکنالوجیز کو شامل کر لیا ہے، جس سے ایک ملین سے زائد مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ جی لین، جیانگ سو اور شانڈونگ سمیت سات صوبوں نے مخصوص پالیسیز کے تحت زچگی کے لیے والدین کی طرف سےخود ادا کیے جانے والے طبی اخراجات کو بھی ختم کر دیا ہے۔

    چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (CPPCC) کی قومی کمیٹی کی رکن پھینگ جینگ کا کہنا ہے کہ ایک "برتھ فرینڈلی " معاشرے کی تشکیل ،دراصل خاندانوں اور بچوں میں سرمایہ کاری کرنا ہے، جو کہ درحقیقت ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

    جیناگسو کے گاوں لی جیا وان کے مزدور، لی کی جڑواں بیٹیاں ابھی تک بول نہیں سکتی ہیں، لیکن ان کے پاس پہلے ہی "ریاستی فنڈڈ اکاؤنٹس" ہیں۔ 100 بلین یوان ($13.9 بلین) کے بڑے بجٹ سے لے کر ایک والد کی جیب میں موجود 7,200 یوان ($1,000) تک، یہ قومی اقدام ریاست کے اس وعدے کو پورا کر رہا ہے کہ بچے "ان- بلٹ سٹائپنڈ " کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ، یہ لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک حقیقت بن چکا ہے۔ تاہم، زچگی کی شرح میں کمی کے چیلنجز پر قابو پانے کے طویل سفر میں، یہ صرف آغاز ہے۔

    ویڈیوز

    زبان