آریس، کا تعلق تنزانیہ سے ہے، حال ہی میں وہ "چینی بننے" کے بڑھتے ہوئےرجحان میں شامل ہوئے، جس میں غیر ملکی افراد ، روزمرہ کی چینی ثقافت میں کھو جاتے ہیں۔وہ بھی ، جنوب مشرقی چین کے صوبے فوجیان میں شیامین کے جزیرے گولانگ یو میں ،حقیقی چینی ثقافت کے رنگ تلاش کرتے ہیں ۔
یہ جزیرہ، "سمندر کا باغ" اور "پیانو جزیرہ" کے نام سے معروف ہے۔ اریس نے تاریخی علاقے میں گھومتے ہوئے چینی اور مغربی فن تعمیر کے منفرد امتزاج کو سراہا ، صدیوں پرانی عمارات میں چھپی کہانیوں کو کھوجا، اس کے علاوہ ، ایک روایتی من نان چائے خانہ کا دورہ کیا تاکہ گونگ فو چائے بنانے کا فن سیکھ سکیں اور بعد ساحل پر بیٹھ کر لہروں کی دھڑکن کو پیانو کی دھنوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے سنا۔ اریس نے ، اینٹوں اور مٹی میں، چائے اور روایت میں پائے گئے لمحات کے ذریعے چین کی روزمرہ زندگی کا ایک زندہ اور حقیقی روپ دیکھا۔
گولانگ یو، یونیسکو کے عالمی ورثے کا مقام ہے، جو فن تعمیر کی مہارت ، عوامی ثقافت اور قدرتی مناظر کو یکجا کرتا ہے اور چینی و مغربی ثقافتوں کے منفرد امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ آج، یہ جزیرہ چینی ثقافت کی ایک کھلی اور شمولیت پر مبنی تصویر پیش کرتا ہے، جو بین الاقوامی مہمانوں کے لیے چین کو بہتر طور پر سمجھنے کا ایک اہم دروازہ کھولتا ہے۔



