چین کی وزارت زراعت و دیہی امور کے متعلقہ حکام نے 23 اپریل کو چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی زرعی اور دیہی معیشت کا عمدہ ترقیاتی رجحان برقرار رہا اور دیہی علاقوں کے جامع احیاء کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔
اس وقت سرمائی ریپسیڈ کا زیرِ کاشت رقبہ مستحکم ہے اور فصل کی نشوونما بہتر ہے۔ موسم بہار کی کاشتکاری بخیر و خوبی جاری ہے اور فصلوں کی بوائی بیس فیصد سے زائد مکمل ہو چکی ہے۔ پہلی سہ ماہی میں گوشت کی پیداوار 26.62 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال 4.8 فیصد زیادہ ہے۔ دودھ کی پیداوار 9.22 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جوکہ 3.4 فیصد کا اضافہ ہے۔ ملک میں آبی مصنوعات کی پیداوار 15.471 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال 4.3 فیصد کا اضافہ ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی مجموعی طور پر مستحکم ہے۔ پہلی سہ ماہی میں نامزد سائز سے بالا زرعی اور سائیڈ لائن فوڈ پروسیسنگ اداروں کی اضافی قدر میں سال بہ سال 6.8 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ دیہی آبادی کی فی کس ڈسپوزایبل آمدنی میں حقیقی معنوں میں 5.4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ملک بھر میں بنیادی صنعت میں فکسڈ اثاثوں کی سرمایہ کاری میں سال بہ سال 15.9 فیصد کا اضافہ ہوا، جو زرعی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔



