
24اپریل 2024 کی ایک تصویر جس میں، صوبہ حہ نان کے شہر جینگ جو میں بی وائے ڈی پلانٹ میں، نئی توانائی پر مبنی گاڑیوں کی اسمبلی لائن دکھائی گئی ہے۔ (تصویر۔ شنہوا)
24 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کےریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نیوز نے، ایک جرمن صنعتی مشاورتی ادارے کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ پہلی بار کسی چینی آٹومیکر نے، عالمی آٹومیکر انوویشن انڈیکس میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔
21 اپریل کو ، جرمنی میں قائم سینٹر آف آٹوموٹو مینجمنٹ (CAM) نے "آٹوموٹو-انوویشن رپورٹ2026" جاری کی۔ چینی کمپنی BYD نے پہلی بار عالمی آٹوموٹو انوویشن کی درجہ بندی میں پچھلے سال کی چیمپئن، ووکس ویگن( 143وائنٹس )کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ، 157 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جب کہ جرمن آٹومیکر مرسڈیز بینز 134 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن پر رہی ۔
چین کی برقی گاڑی بنانے والی کمپنی XPeng نے 128 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ جرمن آٹومیکر BMW اور چینی کارکمپنی Geely Group کے ساتھ یہ تینوں کمپنیز چوتھے سے چھٹے نمبر پر رہیں۔ رینالٹ، ٹویوٹا، جنرل موٹرز اور ہنڈائی بھی ٹاپ 10 کی فہرست میں شامل ہیں ۔سی سی ٹی وی نیوز کے مطابق، 2005 میں شروع ہونے والے "آٹوموٹو انوویشن ریسرچ " منصوبے کے بعد پہلی بار کسی چینی آٹوموبائل کمپنی نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں اہم بات یہ ہے کہ ٹاپ 10 میں تین چینی کمپنیز نے جگہ پائی ہے، جو کہ جدت میں کسی ایک کمپنی کی کامیابی کو نہیں بلکہ چینی آٹوموبائل مینیوفیکچررز کی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔
چین اور جرمنی کی آٹوموبائل صنعت کے منظر نامے سے واقفیت رکھنے والے الیکٹروڈر کے شریک بانی لیوک ہو نے، گلوبل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جدت کی درجہ بندی میں بہتری نے چین کی جانب سے بجلی کی فراہمی، ذہانت پر مبنی تبدیلی اور سپلائی چین میں بڑے پیمانے پر منفرد وسائل اور صلاحیتوں کو ظاہر کیا ہے ۔ چینی مارکیٹ، ایک اہم آٹوموبائل مارکیٹ ہونے کے علاوہ، آٹوموبائل جدت کو فروغ دینے کا ایک میدان بن گئی ہے۔



