30 اپریل کو، امریکی وفاقی مواصلاتی کمیشن نے ایسے اقدامات کی منظوری دی ہے جن کے تحت ان ممالک کے جانچ و تصدیقی اداروں کی اہلیت ختم کی جا سکتی ہے جن کے ساتھ امریکہ کا "باہمی تسلیم" کا معاہدہ نہیں ہے، جبکہ نام نہاد "کور لسٹ" میں شامل اداروں کو امریکہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کاروبار سے روکا جائے گا۔ مزید اقدامات کے لیے عوامی آراء بھی طلب کی جائیں گی۔
چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وفاقی مواصلاتی کمیشن نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر جانبداری کے اصول کو ترک کرتے ہوئے قومی سلامتی کے تصور کو بلاجواز وسعت دی ہے اور بغیر کسی ٹھوس شواہد کے بار بار پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان اقدامات کے تحت چین سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں اور مصنوعات کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جس سے چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ پابندیاں چین اور امریکہ کے درمیان معاشی و تجارتی تعلقات کے حوالے سے مشکل سے حاصل شدہ استحکام کو متاثر کر رہی ہیں اور دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے شدہ اتفاق رائے کے بھی منافی ہیں۔ چین نے ان اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سخت مخالفت کی ہے۔



