7 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)مشرقی چین کے صوبے جہ جیانگ کا شہر یی وو ، جو نہ تو ساحلی شہر ہے اور نہ ہی صوبائی دارالحکومت، لیکن اس نے دنیا بھر کے 233 ممالک اور علاقوں میں روزمرہ استعمال کی ، 2.1 ملین سے زیادہ اقسام کی چھوٹی اشیا برآمد کی ہیں۔
یی وو کی کہانی، "پرندے کے پَر کے بدلے چینی" کی تجارت سے شروع ہوئی کہ جب دیہی بیوپاری کھنکتے بانس سے ڈھول پیٹتے سفر کرتے تھے اور گھر گھر جا کر روزمرہ استعمال کی چھوٹی چھوٹی اشیا کا تبادلہ کرتے تھے۔
وقت بدلتا گیا اور یی وو ،وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھلتا گیا۔ 2000 کی دہائی کے اوائل تک، یی وو کی ساکھ کافی مضبوط ہو چکی تھی ، لیکن تیز رفتار ترقی نے نئے چیلنجز پیدا کیے۔ اگرچہ تجارتی حجم میں اضافہ ہوا، لیکن کم منافع والے تجارتی ماڈل ، یی وو کی ترقیاتی راہ میں حائل تھے۔یی وو رورل کمرشل بینک میں کریڈٹ ریویو کے نائب جنرل منیجر دینگ ہان یونگ کے مطابق، ایک کنٹینر کو صرف کسٹمز کلیئر کرنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا اور یہ نظام اب شہر کی رفتار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

جہ جیانگ کے شہر یی وو میں مقبول اشیا کے ساتھ سیکنڈ جنریشن انٹریپرینور ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن)
2006 میں، جہ جیانگ نے ایک بڑی "ریفارم"کا آغاز کیا جس میں 131 انتظامی اختیارات، یی وو کے نگران شہر جنہوا سے یی وو کو منتقل کیے گئے۔ ان اختیارات میں زمین کی منظوری، غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکس ریٹرنز اور کسٹمز کلیئرنس شامل تھے۔اس کے اثرات فوری طور پر سامنے آئے ، 2005 میں یی وو کا جی ڈی پی 30 ارب یوان (4.39 ارب ڈالر) تھا جو 2007 میں بڑھ کر 42.09 ارب یوان تک پہنچ گیا، جب کہ برآمدات جو 10 ارب یوان سے کم تھیں 2025 تک بڑھ کر 730 ارب یوان سے زیادہ ہو گئیں۔
اس کے بعد سے، یی وو نے اصلاحات کا تسلسل جاری رکھا۔ ان میں غیر ملکی تجارت کے جامع پائلٹ ریفارم پراجیکٹ، مارکیٹ خریداری کے تجارتی نظام کا قیام، سرحد پار ای کامرس جامع پائلٹ زون، یی وو کے آزاد تجارتی پائلٹ زون کی توسیع اور بین الاقوامی تجارت کی جامع اصلاحات کے نئے دور کی منظوری شامل ہیں۔

جہ جیانگ کے شہر یی وو کے گلوبل ڈیجیٹل ٹریڈ سینٹر میں غیر ملکی کاروباری افراد ، غیر ملکی کاروبار کی موجودگی کی عکاسی کرنے والے ڈیٹا کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن)
1980 کی دہائی میں کھلے میدانوں میں لگے ٹھیلوں سے لے کر آج کے ڈیجیٹل تجارتی مراکز تک، یی وو مارکیٹ نے چار دہائیوں میں چھ نسلوں کے ذریعے ترقی کی ہے جن میں جدید ترین انداز کے ساتھ 2025 میں کھلنے والے گلوبل ڈیجیٹل ٹریڈ سینٹر میں، اے آئی ترجمہ، خود مختار لاجسٹکس اور لائیو سٹریم ٹریڈ شامل ہیں۔ اب یہاں 3,700 سے زیادہ بیوپاری کام کر رہے ہیں، یومیہ آمد و رفت 60,000 تک پہنچ چکی ہے، جن میں تقریباً 5,000 غیر ملکی خریدار شامل ہیں۔
کھلے ترقیاتی ماڈل نے یی وو کی عالمی منڈیوں تک رسائی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ نومبر 2014 میں شروع ہونے والی ، یی شن اوو (یی وو-شنجیانگ(سنکیانگ)-یورپ) مال بردار ٹرین سروس، اب 50 سے زائد ممالک میں 160 سے زیادہ شہروں کے لیے 15,900 سے زیادہ سفر مکمل کر چکی ہے اور دنیا کے طویل ترین مال بردار ریلوے نیٹ ورکس میں سے ایک بن گئی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں، یی وو سے تعلق رکھنے والی 10 کمپنیز نے، اٹلی میں بولوگنا کےمارکا بائی فیئر میں شرکت کے لیے اتحاد کیا اور 20 ملین یوان سے زائد کے آرڈرز حاصل کیے۔یی وو کے نیو جنریشن انٹریپرینیور اب اپنی برینڈز کو عالمی سطح پر لے جا رہے ہیں، غیر ملکی آرڈرز کھوج رہے ہیں اور بین الاقوامی کاروباری مواقع حاصل کررہے ہیں۔اس سال کی پہلی سہ ماہی میں، یی وو نے دنیا کے 220 سے زیادہ ممالک اور علاقوں کے ساتھ تجارت کی جب کہ اس کا عالمی کاروباری نیٹ ورک بڑھتا جا رہا ہے۔



