
12 مارچ 2026۔ شمالی چین کی تھیان جن میونسپلٹی میں پاکستانی محقق محمد سلمان ناصر (درمیان میں)تھیان جن یونیورسٹی میں تجربات کر رہے ہیں۔ (شنہوا)
37 سالہ محمد سلمان ناصر، پہلی بار 2017 میں ایک طالب علم کے طور پر چین آئے اور پھر انہوں نے یہیں پر اپنی زندگی اور کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف، چین کے 'دوہرے کاربن اہداف' کی تحقیق کے لیے مہیا کی جانے والی واضح سمت اور ایک مستحکم پلیٹ فارم کی وجہ سے ہی یہاں رہنے کا انتخاب نہیں کیا بلکہ اس لیے بھی کہ یہاں زندگی ایک گہرے یقین اور اعتماد کا احساس دیتی ہے۔ چین نے 2030 سے پہلے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی انتہائی حد تک پہنچنے اور 2060 سے پہلے کاربن نیوٹرلٹی حاصل کرنے کے دوہرے کاربن اہداف متعین کیے ہیں۔
چین میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، 2026 کی پہلی ششماہی میں 22.91 ملین ان باونڈ فارن وزٹس ریکارڈ کیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 20.4 فیصد کا اضافہ ہے، جن میں ویزا فری داخلے 77.7 فیصد ہیں۔
زیادہ تر غیر ملکی چین میں کام کرنے، سیاحت کرنے یا یہاں رہنے کے لیے آتے ہیں ، انہیں یہاں کی سہولیات، عوام کے تحفظ اور ایک واضح مستقبل کے احساس جیسے عوامل اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
باسہولت زندگی
محمد سلمان ناصر کہتے ہیں کہ شہر کے میٹرو اور بس سسٹم بے حد باسہولت ہیں۔ اس کے علاوہ، شیئرڈ سائیکلز انہیں کیمپس کے دروازے سے لیب تک کا فاصلہ طے کرنے کی سہولت دیتی ہیں۔ پارک، کلینک اور سپر مارکیٹیں ان کے رہائشی علاقے کے قریب ہی ہیں۔
چین میں رہنے والے غیر ملکی افراد کے لیے روزمرہ کی ان سہولیات کی تعریف کرنا ایک مشترکہ موضوع ہے ۔

یکم مئی 2026۔ بیجنگ انٹرنیشنل آٹو موٹیو ایگزیبشن میں شریک، تھیان جن فارن سٹڈیز یونیورسٹی کے روسی نژاد ایسوسی ایٹ پروفیسر ،ایوان مونیخ۔ (شنہوا)
روسی نژاد، ایوان مونیخ، تھیان جن فارن سٹڈیز یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور وہ اکثر تھیان جن اور بیجنگ کے درمیان ہائی سپیڈ ٹرین سے سفر کرتے ہیں، جس میں تقریباً آدھا گھنٹا لگتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں رہتے ہوئے ان کا تجربہ ہے کہ انہیں جو کچھ بھی درکار ہے وہ فون کی ایک ہی ایپ میں موجود ہے۔ موبائل ایپس جو نیویگیشن، ٹریفک اور سواری کے لیے رئیل ٹائم خدمات کو یکجا کرتی ہیں، سفر کی منصوبہ بندی کی پریشانی کو ختم کر دیتی ہیں۔
چین، بین الاقوامی سیاحوں کے لیے خدمات کو بہتر بنا رہا ہے۔ غیر ملکی کاروباری اور پیشہ ور افراد کے لیے حالیہ اپ ڈیٹ گائیڈنس میں ای سم کارڈز کے لیے درخواست دینے کے بارے میں معلومات اور ان شہروں کی نئی فہرست شامل ہے جہاں غیر ملکی افراد موبائل ایپس یا بینک کارڈز کے ذریعے موبائل ادائیگی یا میٹرو میں سفر کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات چین میں غیر ملکیوں کو درپیش کچھ چیلنجز کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ سلمان ناصر کی رائے میں ، چین معقول قیمت میں معیاری خدمات فراہم کرتا ہے ، لوگوں کو کم قیمت پر متنوع انتخابات تک رسائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔
حفاظتی پہلو
رات کے وقت، چین کی سڑکیں روشنیوں سے جگمگاتی ہیں۔ سٹریٹ فوڈ سٹالز پر لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے تاہم پیدل چلنے والوں کو بھی کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے۔ ایسے مناظر بار بار غیر ملکی سیاحوں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے ٹریول لاگز میں نظر آتے ہیں۔
27 جون 2026 ۔ شمالی چین کی تھیان جن میونسپلٹی میں ، ایئر بس تھیان جن ڈیلیوری سینٹر کے جنرل منیجر کرسٹوف شریمپ نے یورپی یونین چیمبر آف کامرس چائنا کے تھیان جن چیپٹر کی

طرف سے منعقد کیے جانے والے بیڈمنٹن ٹورنامنٹ میں 2026حصہ لیا ۔ (شنہوا)
ایئر بس تھیان جن ڈیلیوری سینٹر کے جنرل منیجر کرسٹوف شریمپ، ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے چین میں سکونت پذیر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے "احساسِ تحفظ" نے ان کے طرزِ زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں انہیں کہیں جاتے ہوئے اپنے لباس کے حوالے سے بے حد پر تکلف ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ رات کے وقت بغیر کسی فکر کے اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانے کے لیے باہر جانا ایک پرسکون احساس دیتا ہے۔
بین الاقوامی سروے میں بھی چین میں "احساس تحفظ" واضح طور پر نمایاں ہے۔ گیلپ کی 2025 کی گلوبل سیفٹی رپورٹ کے مطابق، چین، عوام کے احساسِ تحفظ اور قانون و انصاف کے لحاظ سے دنیا کے "ہائی سکورنگ" ممالک میں شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کے پہلے پانچ ماہ میں پبلک سکیورٹی اتھارٹیز کی جانب سے درج کردہ مجرمانہ مقدمات میں سال بہ سال 16.1 فیصد کمی آئی، جب کہ پبلک سکیورٹی مقدمات میں 10.6 فیصد کمی آئی۔ 2025 میں، چینی شہریوں کا احساسِ تحفظ ، 98.2 فیصد تک پہنچ گیا، جو مسلسل چھ سال سے 98 فیصد سے اوپر آرہاہے۔
تھیان جِن میں نان کھائی یونیورسٹی کے سینٹر فار ہیومن رائٹس سٹڈیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر، حوانگ ہائی تھاو کے مطابق اس کا سبب، چین کا عوام کو مرکزیت دینا ، انتہائی مؤثر سماجی گورننس سسٹم نیز خیر و فلاح اور اعتماد کی گہری ثقافتی اقدار سے منسلک ہونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں علاقائی تنازعات اور ناکام گورننس عام ہیں، یہ احساسِ تحفظ اور بھی بیش قدر ہے۔
مستقبل کی جھلک
کرسٹوف شریمپ کے لیے، وی چیٹ اور علی پے جیسی سپر ایپس روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو سنبھالتی ہیں۔ بس لینے کے لیے QR کوڈ سکین کیا جاتا ہے اور پارکنگ ٹکٹ لینے یا سکے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔آج چین کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر، بغیر ڈرائیور کے خودکار گاڑیاں چلتی نظر آتی ہیں اور روبوٹ ٹریفک کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یوٹیلیٹی بلز اور سکول کی رجسٹریشن سمارٹ فون پر چند ٹیپس کے ساتھ مکمل کی جا سکتی ہے اور میٹرو پر مستحکم موبائل سگنلز مسافروں کو دورانِ سفر اپنا ضروری کام کرنے یا تفریحی مواد دیکھنے کی سہولت دیتے ہیں۔ سلمان ناصر کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز کبھی محض خیال تھیں لیکن آج مستقبل کی یہ سب ٹیکنالوجیز چین میں روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔
ایک انجینئر کے طور پر، کرسٹوف شریمپ چین میں نئی ٹیکنالوجیز کی تعیناتی کی رفتار سے بے حد متاثر ہیں۔ ان کے زیرِ استعمال الیکٹرک گاڑی خودکار پارکنگ اور معاون ڈرائیونگ کی خصوصیات کی حامل ہے جو انہیں ایک خوش کن لیکن حیران کن تجربہ فراہم کرتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ متاثر کن پیداوار اور خدمات کے منظرناموں میں انسان نما روبوٹ کی تعیناتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں رہتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجیز قدم بہ قدم ہمارے مستقبل کے تصورات کو حقیقت میں تبدیل کر رہی ہیں۔
تھیان جن فارن سٹڈیز یونیورسٹی کے سکول آف فارن سٹڈیز کے استاد، وانگ رو تھونگ کہتے ہیں کہ ویزا فری پالیسیز کی توسیع سے لے کر عوامی خدمات کی بہتری اور آسان زندگی کے تجربات تک، چین غیر ملکیوں کے لیے کام کرنے اور رہائش کے لیے مستحکم اور توقعات پر پورا اترنے والا ماحول فراہم کرتا ہے۔
ان کی رائے میں، زیادہ تر غیر ملکی صرف مختصر مدت کے لیے ہی چین نہیں آ رہے، بلکہ وہ چین کی اقتصادی ترقی سے پیدا ہونے والے مواقع میں شامل ہونے کے لیے یہاں رہائش اختیار کرنے کے بھی خواہش مند ہیں۔



