• صفحہ اول>>تبصرہ

    پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ: مالیات سے آگے کی حکمت عملی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-07-27

    تحریر :عشرت حسین (سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ۔ ورلڈ بینک کے سابق چیف اکانومسٹ)

    چین کی مقامی کیپٹل مارکیٹ تک پاکستان کی پہلی رسائی کو، 2000 کی دہائی کے اوائل سے مضبوط ہوتے ، چین-پاکستان اقتصادی تعلقات کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ 2006 میں چائنا-پاکستان فری ٹریڈ معاہدے (CPFTA) پر دستخط ہوئے۔ دونوں فریقین نے مارچ 2011 میں CPFTA کے دوسرے مرحلے کےمذاکرات کا آغاز کیا اور مذاکرات کی تکمیل پر اپریل 2019 میں پروٹوکول پر دستخط کیے۔ دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کو فروغ دینے کے لیے دسمبر 2011 میں، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا نے کرنسی کے دو طرفہ تبادلے کا معاہدہ کیا جس کی مالیت 10 ارب یوان تھی۔

    آج چین ، پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اگر آر ایم بی میں مزید درآمدی معاہدے طے کیے جائیں تو کمپنیز اپنی آمدنی اور اخراجات کو ایک ہی کرنسی میں متوازن کرکے، شرح تبادلہ کے نقصانات کے خلاف قدرتی تحفظ حاصل کر سکتی ہیں، جس سے ڈالر کو آر ایم بی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

    2015 میں، جب چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا باقاعدہ آغاز ہوا تو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت دو طرفہ تعاون میں اہم پیش رفت ہوئی۔ اس کے بعد سے پاکستان میں کام کرنے والے چینی کمرشل بینکس یعنی انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (ICBC) اور بینک آف چائنا (BOC) بین الاقوامی مسابقتی شرائط پر عوامی اور نجی شعبے کو قرضے فراہم کر رہے ہیں۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تقریباً 30 فیصد حصہ مشترکہ طور پر ،چائنا فنانشل فیوچرز ایکسچینج، شنگھائی سٹاک ایکسچینج اور شین زن سٹاک ایکسچینج کا ہے۔ یہ شراکت پاکستانی کمپنیز کے لیے چینی سٹاک ایکسچینجز پر کراس بارڈر لسٹنگ کے مواقع فراہم کرتی ہے اور چینی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرتی ہے۔ چین میں غیر ملکی اداروں کی طرف سے جاری کردہ آر ایم بی پر مشتمل پانڈا بانڈ کا کامیاب اجرا ، پاکستان کے خود مختار کریڈٹ کی پہچان کو مزید بڑھائے گا۔

    پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے پس منظر میں کارفرما حکمت عملی کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے، اس کو دو طرفہ جامع تعاون کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کے لیے، پانڈا بانڈ کو بیرونی مالیات کےتنوع، قرض لینے کی لاگت کو کم کرنے اور چین کے ساتھ مالیاتی تعلقات کو گہرا کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

    پانڈا بانڈ کا تصور 2000 کی دہائی کے وسط میں چین کی داخلی مالیاتی منڈیوں کے بتدریج کھلے پن کے اقدامات کے ایک حصے کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ آج، پانڈا بانڈ جاری کرنے والے اداروں میں متعدد مختلف اقسام کے ادارے شامل ہیں ، جن میں ہنگری، سلووینیا، اور قازقستان جیسے ممالک کے خود مختار ادارے، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) سمیت بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسیز ، بڑے بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز شامل ہیں۔ پبلک ڈیٹا کے مطابق، رواں سال کے پہلے نصف میں جاری کردہ پانڈا بانڈ ، 160 بلین یوان سے متجاوز ہو چکے ہیں، جو سال بہ سال 60 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔

    پاکستان کا مئی 2026 میں جاری کیا گیا پہلا پانڈا بانڈ عکاس ہے کہ چینی سرمایہ کار ،معتبر اصلاحات اور کثیر جہتی ضمانتوں کے ساتھ پاکستان کی مالی معاونت کے لیے تیار ہیں ۔ 1.75 بلین یوان کے اجرا کی سبسکرپشن پانچ گنا سے زیادہ ہوئی اور اس پر کوپن 2.5 فیصد تھا، جو پاکستان کے حالیہ امریکی ڈالر کے قرضوں کی لاگت سے کافی کم ہے۔ نئی مارکیٹ میں پہلی ہی بار اوورسبسکرپشن ہونا،گلوبل کیپٹل مارکیٹس کو ایک خوش آئند پیغام پہنچاتا ہے، یہ پاکستان کے خود مختار کریڈٹ کے تاثر کو بہتر بناتا ہے اور مستقبل کے بین الاقوامی بانڈ کے اجرا خاص طور پر جن کی کثیر جہتی ضمانتیں نہیں ہیں ان کی قیمتوں کو بہتر بناتا ہے۔

    اس سے پہلے، پاکستان کے روایتی بیرونی مالی وسائل میں کثیر جہتی ادارے مثلاً بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور اے ڈی بی، ساتھ ہی دو طرفہ سرکاری امداد، یوروبانڈز، سکک اور تجارتی بینک کے قرضے شامل تھے ۔ چین کی آن شور بانڈ مارکیٹ تک رسائی پاکستان کے مالی وسائل کی بنیاد کو متنوع بنانے کے لیے ایک نیا راستہ کھولتی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان