
28جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 27جولائی کو ،چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو بیورو کی پریس بریفنگ کے دوران بیورو اہلکار نے بتایا کہ چین کی بین الاقوامی درآمدی نمائش (CIIE) کے نویں ایڈیشن میں 57 ممالک اور تین بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی تصدیق کی ہے، جس میں پہلی مرتبہ مالدووا، رومانیہ اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)کی شرکت متوقع ہے۔
نویں سی آئی آئی ای 5 سے 10 نومبر تک شنگھائی میں منعقد ہوگی جس میں متعلقہ ممالک کے صوبوں، ریاستوں اور شہروں کو بھی شرکت کا موقع ملے گا۔ کینیڈا نے دوسری مرتبہ اعزازی مہمان ملک کے طور پر اپنی خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بیورو کے نائب ڈائریکٹر جنرل وو ژینگ پھنگ کے مطابق، چینی پویلین میں، 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-30) کے دوران نئے مواقع اور اقتصادی و سماجی ترقی کے حوالے سے چین کے وژن کو پیش کیا جائے گا۔
99 ممالک اور علاقوں سے 1,200 سے زائد کمپنیز نے شرکت کے لیے سائن اپ کیا ہے، جو کہ گزشتہ سال کی تعداد سے 100 زیادہ ہیں۔ کاروباری نمائش گاہ کا رقبہ 360,000 مربع میٹر پر مشتمل ہے، معاہدہ شدہ نمائش کی جگہ 340,000 مربع میٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جو ہدف کا 95 فیصد ہے۔ شرکا میں 265 فورچون گلوبل 500 کمپنیز اور سرکردہ صنعتیں شامل ہیں، جو کہ تعداد میں سال بہ سال 10 زیادہ ہیں۔
اس سال کی نمائش میں ایشیا-افریقا پراڈکٹ زون کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا، جس سے افریقی ممالک کے نمائش کنندگان کو چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کے ذریعے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔
چین کی بین الاقوامی درآمدی نمائش کا ایک اہم حصہ کاروباری نمائش ہے۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق، پہلے آٹھ ایڈیشنز کے دوران اس میں، 27,000 غیر ملکی نمائش کنندگان کی شرکت ریکارڈ کی گئی تھی اور 3,400 سے زیادہ نئی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور خدمات پیش کی گئیں اور اس سال کی نمائش میں مزید نئے نام شامل ہوں گے۔
نمائش کی جگہ اور شرکت کرنے والی کمپنیز کی تعداد میں مسلسل اضافہ چین کی بین الاقوامی درآمدی نمائش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عالمی کاروبار کے لیے چینی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ماڈرنائزیشن آف مینیجمنٹ میگزین کے ایڈیٹر ان چیف، بی آن یونگ جو کا کہنا ہے کہ ملک کی وسیع مارکیٹ اور اعلیٰ معیار کی درآمدات، خاص طور پر اعلیٰ معیار کی اشیا کی بڑھتی ہوئی طلب سے متاثر ہو کر مختلف ممالک کی کمپنیز نئے امکانات کی تلاش میں چین آ رہی ہیں۔فارچون گلوبل 500 کمپنیز کے لیےیہ ایکسپو قیمتی برینڈز کی نمائش کا موقع اور چینی مارکیٹ کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ بی آن کی رائے میں، چینی مارکیٹ کی وسعت، صنعتی قوت اور تحقیق کی صلاحیت اسے عالمی آپریشنز، مسابقت اور سپلائی چین کی لچک کے لیے ناگزیر بناتی ہے۔چھوٹی معیشتوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیز کے لیے, چین میں کامیابی کے ساتھ داخلہ ان کی ترقی کے امکانات مزید مضبوط کرتا ہے اور یہ بھرپور مواقع اس نمائش میں حصہ لینے اور دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر مارکیٹس میں سے ایک تک رسائی حاصل کرنے کی بھرپور خواہش کو بیان کرتے ہیں۔



