• صفحہ اول>>تبصرہ

    پائیدار ترقی کے ایک خوبصورت مستقبل کی تشکیل

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-07-29

    28 جولائی کو بیجنگ میں عالمی ترقیاتی اقدام (GDI) کی 5ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔"عالمی ترقیاتی اقدام کی 5ویں سالگرہ: ایک نئی شروعات، پائیدار ترقی کے ایک خوبصورت مستقبل کی تشکیل " کے موضوع پر منعقدہ اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام، "جی ڈی آئی گروپ آف فرینڈز " کے رکن ممالک کے چین میں تعینات سفرائے کرام، چین میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی اداروں کے نمائندگان ، ماہرین اور محققین نے شرکت کی۔ شرکا نے عالمی ترقیاتی اقدام کے نفاذ کے نتائج، مستقبل کے تعاون کی ترجیحات اور دنیا کے لیے اس کی شراکت پر تبادلہ خیال کیا۔

    2021 میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس کی عام بحث میں ،صدر شی جن پھنگ نے عالمی ترقیاتی اقدام پیش کیا تھا۔ گزشتہ 5 سالوں کے دوران، 130 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس اقدام کی حمایت کی ہے اور اس کے تعاون میں حصہ لیا ہے، جس سے حاصل کردہ نتائج سے 120 سے زائد ممالک کے عوام مستفید ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے فنڈ برائے امن و ترقی اور عالمی ترقی نیز جنوب-جنوب تعاون فنڈ جیسی فنڈنگ کی بدولت، عالمی ترقیاتی اقدام نے مجموعی طور پر 23 ارب ڈالر سے زائد کے فنڈز اکٹھے کیے ہیں ،عوام کی فلاح و بہبود کے 1800 سے زائد "چھوٹے لیکن مفید" منصوبوں کا نفاذ کیا گیا ہے اور متعلقہ صلاحیت سازی کے مختلف قسم کے منصوبوں کے تحت 2 لاکھ سے زائد ہنرمندوں کو تربیت دی ہے۔ غربت کے خاتمے میں مدد دینے والی جون ٹساؤ ٹیکنالوجی سے لے کر پائیدار ترقی کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا کے اشتراک اور موسمیاتی سمارٹ وارننگ کے نظام تک، تعاون کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل آفس کے ڈائریکٹر کورٹنی راٹرے کا کہنا ہے کہ چین نے فنانسنگ کی توسیع ، تکنیکی تعاون کے فروغ اور ترقیاتی شراکت داری کے قیام سے مختلف ممالک اور خطوں میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین نے اپنی معاشی تبدیلی اور اپ گریڈیشن کے عمل کے دوران جو تجربات حاصل کیے ہیں، وہ ترقیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک بہترین نمونہ فراہم کرتے ہیں۔

    اس وقت، اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کی پیش رفت سست روی کا شکار ہےاور شمال-جنوب ترقیاتی خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اجلاس کے شرکا کی رائے میں عالمی ترقیاتی اقدام ، ترقی کو دوبارہ سے بین الاقوامی ایجنڈے کے مرکز میں لایا ہے ، جس سے دنیا میں استحکام اور یقین پیدا ہوا ہے۔

    چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ عالمی ترقیاتی اقدام نے دنیا بھر کے اربوں لوگوں کے لیے امید جگائی ہے، ترقی کے حوالے سے ممالک کو بیش قدر اعتماد دیا ہے نیز چین کی قیادت اور طویل مدتی بین الاقوامی وژن کو اجاگر کیا ہے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو مشترکہ طور پر نافذ کرنے کے لیے تمام فریقوں کے مشترکہ وژن کا حامل ہے۔

    اس وقت، "جی ڈی آئی گروپ آف فرینڈز" کا حلقہ 88 ممالک تک پھیل چکا ہے اور یہ عالمی ترقی کے ہدف کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم طاقت بن گیا ہے۔

    اجلاس کے شرکا کا کہنا تھا کہ چین، عالمی ترقیاتی اقدام کو مسلسل گہرا اور ٹھوس بنا رہا ہے جو ایک بڑے ذمہ دار ملک کے طور پر اس کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین دیگر ممالک کے ساتھ ترقی کے مواقع بانٹنا جاری رکھے گا، مساوی اور مفید باہمی تعاون کو گہرا کرے گا ،ترقیاتی خلیج کو کم کرنے اور مشترکہ عالمی خوشحالی کو فروغ دینے میں مزید اہم کردار ادا کرے گا۔

    ویڈیوز

    زبان