
30جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)حال ہی میں،تارم یونیورسٹی کے اوورسیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بیک یارڈ نے پاکستان میں، چائنا - پاکستان ڈیزرٹ ہارٹیکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بیک یارڈ قائم کیا ہے، جس سے چین اور پاکستان کے درمیان صحرائی علاقوں کی زراعت میں سائنسی و تعلیمی تعاون کے لیے سرحد پار ایک نیا سائنسی اور اختراعی پلیٹ فارم مہیا ہوا ہے۔
ملتان کے نیم صحرائی زرعی علاقے میں قائم، چائنا - پاکستان ڈیزرٹ ہارٹیکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بیک یارڈ ، اس شعبے میں تارم یونیورسٹی کی خصوصی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے نیم صحرائی علاقوں میں زرعی ترقی کو درپیش مسائل پر توجہ دے گا اور سائنسی تحقیق نیز عملی تدریس میں تعاون کرے گا۔ اس کے اہم کاموں میں خشک سالی برداشت کرنے والی ہارٹیکلچر فصلوں کی کاشت، پانی بچانے والی زرعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے اور فروغ، زرعی ماہرین کی تربیت اور زرعی ٹیکنالوجی کے نمائشی مراکز کی تعمیر شامل ہے۔
اس کے علاوہ، تارم یونیورسٹی اور پاکستان کی محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ، مشترکہ طور پر پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے مستقل تربیتی میکانزم قائم کریں گی تاکہ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان باقاعدہ باہمی تبادلوں کو فروغ دیا جا سکے۔
دو طرفہ بین الاقوامی سائنسی تحقیقی منصوبوں کے تحت، دونوں جامعات اعلیٰ معیار کے جینیاتی وسائل اور جدید ترین تعلیمی و تحقیقی نتائج کا اشتراک کریں گی۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی طلبہ کے لیےحقیقی زرعی ماحول میں ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرنا نیز سائنسی تحقیق و اختراع کی صلاحیتوں اور زراعت کی عملی مہارتوں کو بہتر بنانا ہے۔ اس طریقہ کار سے اس اوورسیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بیک یارڈ کو سرحد پار زرعی سائنسی جدت اور بین الاقوامی زرعی ماہرین کی تربیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بنایا جائے گا۔



