نفسیات کی "ایٹری بیوشن تھیوری" کے مطابق، جب لوگ کامیاب ہوتے ہیں تو اس کامیابی کا سہرا خود اپنے سر سجاتے ہیں لیکن جب انہیں مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ کچھ تجارتی تحفظ پسندوں کا بھی یہی حال ہے، وہ اپنی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت میں کمی اور صنعتی کھوکھلے پن کا ذمہ دار چین کو ٹھہراتے ہیں اور چینی پیداوار کے "گنجائش سے متجاوز" ہونے کا پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔

اقتصادی اور تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ دینے اور چین پر پابندیوں میں اضافے کے رجحان کے جواب میں، چین کی وزارتِ تجارت نے "گنجائش سے متجاوز" ہونے کے نام نہاد مسئلے پر چین کا مؤقف" جاری کیا ہے، جس میں متعلقہ غلط فہمیوں کو منظم انداز میں واضح کیا گیا ہے۔
اول
کیا زیادہ پیداواری صلاحیت کا مطلب پیداواری صلاحیت کا "گنجائش سے متجاوز" ہونا ہے؟ بالکل نہیں۔
پیداوار کے "گنجائش سے متجاوز" ہونے کا مطلب عموماً یہ ہوتا ہے کہ مصنوعات کی رسد اس کی طلب سے زیادہ ہو۔ تاہم، مارکیٹ میں طلب و رسد ہمیشہ، "توازن، عدم توازن اور مکرر توازن" کے ایک متحرک دائرے میں رہتے ہیں۔ پیداواری صلاحیت "گنجائش سے متجاوز" ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے ، ہم صرف کسی خاص وقت یا جگہ کو نہیں دیکھ سکتے، نہ ہی محض پیداواری حجم یا کسی ایک اشاریے کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔
مختلف معیشتوں کے لیے پیداواری صلاحیت کے استعمال کی معقول شرحیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ترقی یافتہ اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں اوسط شرح عموماً 75 فی صد سے 80 فی صد کے درمیان ہوتی ہے، جب کہ کم ترقی یافتہ ممالک میں یہ عام طور پر 50 سے 64 فی صدہوتی ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں جانچ کا کوئی یکساں معیار موجود نہیں ہے۔
2025 میں، چین میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 74.4 فی صد تھی، جو کہ مجموعی طور پر ایک معقول حد کے اندر تھی۔ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ، جدید آلات کی تیاری اور ابھرتی ہوئی سٹریٹیجک صنعتوں میں پیداواری صلاحیت کا مناسب حد تک استعمال کیا گیا؛ جب کہ روایتی خام مال کی کچھ صنعتوں میں یہ شرح عارضی طور پر کم رہی، جس کی بنیادی وجہ سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ اور سبز منتقلی کے باعث آنے والی موافق تبدیلیاں ہیں۔

دوم
صنعتی سبسڈیز، ٹریڈ سرپلس، مقامی طلب کی صورت حال اور مارکیٹ کی مسابقت کو "گنجائش سے متجاوز" کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صنعتی سبسڈیز ، یہ ایک بین الاقوامی طور پر رائج عمل ہے۔ آر اینڈ ڈی سبسڈیز، ٹیکس میں چھوٹ اور کم سود والے قرضے، مارکیٹ کی خامیوں کو دور کرنے، تکنیکی جدت طرازی، ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی اپ گریڈیشن کو فروغ دینے میں مدد دیتے ہیں اور ان سے پیداواری صلاحیت "گنجائش سے متجاوز" نہیں ہوتی۔
ٹریڈ سرپلس ، بڑے ٹریڈ سرپلس کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ پیداواری صلاحیت "گنجائش سے متجاوز" ہے۔ امریکا کی تیار کردہ تقریباً 80 فی صد چپس برآمد کی جاتی ہیں اور بوئنگ کے تقریباً دو تہائی کمرشل طیارے شمالی امریکا سے باہر فروخت ہوتے ہیں؛ یورپی یونین بھی گاڑیوں ، ادویہ اور کاسمیٹکس کے شعبے میں طویل عرصے سے ٹریڈ سرپلس برقرار رکھے ہوئے ہے۔ عام بین الاقوامی ڈویژن آف لیبر اور مصنوعات کی برآمدات پر "گنجائش سے متجاوز" کا لیبل نہیں لگایا جا سکتا۔
مقامی طلب، یہ نام نہاد دعویٰ کہ "چین کی ناکافی مقامی طلب ،پیداواری صلاحیت کے گنجائش سے متجاوز ہونے کا سبب بنتی ہے" بھی حقائق کے منافی ہے۔ عالمی بینک کے پی پی پی کے مطابق ، 2025 میں چین کی اشیائے صرف کی کل خردہ فروخت امریکا کے مقابلے میں 1.7 گنا تھی اور چین پہلے ہی دنیا کی اشیائے صرف کی سب سے بڑی مارکیٹس میں سے ایک بن چکا ہے۔
مارکیٹ کی مسابقت ،مارکیٹ میں بھرپور مسابقت بذات خود پیداواری صلاحیت کے غیر متوازن پھیلاؤ کو روکتی ہے۔ اگر مصنوعات میں مسابقت نہیں ہوگی تو وہ فروخت نہیں ہوں گی، نقصان کا باعث بنیں گی اور بالآخر مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گی۔ ایک سروے کے مطابق2025 میں، 92 فیصد امریکی کمپنیز نے چین میں منافع کمایا جب کہ 75 فیصد یورپی کمپنیز کا ماننا ہے کہ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں چین میں ان کی پیداواری کارکردگی زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ، "میڈ اِن چائنا" نے عالمی سطح پر سبز منتقلی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران، دنیا بھر میں ونڈ پاور اور فوٹووولٹک کی لاگت میں بالترتیب 60 فی صد اور 80 فی صدے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے جو کہ چین کی تکنیکی جدت، بڑے پیمانے پر پیداوار اور مکمل سپلائی چین کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

سوم
"گنجائش سے متجاوز" کے نظریے کو واضح کرنے کا مقصد محض بحث کرنا نہیں بلکہ غلط فہمیوں کو دور کرنا اور تعاون کو برقرار رکھنا ہے۔
حالیہ برسوں میں، چین نے اپنی معیشت میں کھلے پن کو مسلسل فروغ دیا ہے، درآمدی ٹیرف کو کم کیا ہے، خدمات کی تجارت کو وسعت دی ہے اورمعمول کے برآمدی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے تیزی سے برآمد ہونے والی ان مصنوعات کے ایکسپورٹ ٹیکس ریبیٹسمیں ترامیم کی ہیں جو تجارتی تنازعات کا سبب بن سکتی ہیں ۔ کچھ معیشتوں کی صنعتی مسابقت میں کمی کی اصل وجہ ان کے اپنے ساختی مسائل ہیں، نہ کہ چین کی پیداواری صلاحیت کا "گنجائش سے متجاوز" ہونا۔
مندرجہ ذیل حقائق سے چین کا عالمی معیشت میں کردار واضح ہوتا ہے:
چین کی درآمدات کا حجم مسلسل 17 برسوں سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، اور یہ تقریباً 80 ممالک کی برآمدات کا اہم ترین مقام ہے۔
چین نے 63 ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔
چین اب تک مسلسل 8 مرتبہ چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو منعقد کر چکا ہے، جس میں طے پانے والے معاہدوں کا مجموعی حجم 580 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
"چودھویں پانچ سالہ منصوبے" کے دوران، چین کی مجموعی درآمدات 90 ٹریلین یوآن سے متجاوز رہی ہیں۔
یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ چین نہ صرف ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی مضبوط "ورلڈ فیکٹری" ہے، بلکہ ایک انتہائی فعال "ورلڈ مارکیٹ" بھی ہے۔ چین کی جدید صنعتی ترقی، دنیا کے لیے نام نہاد
"China Shock 2.0" نہیں بلکہ "China Opportunity 2.0"ہے۔



