
27 اپریل 2026۔ ماسکو میں تھیان جن یونیورسٹی کی پاکستانی محققہ عاصمہ بی بی "دنیا کا مستقبل۔ عالمی ترقی کا ایک نیا پلیٹ فارم "کے دوسرے اوپن ڈائیلاگ سے خطاب کر رہی ہیں۔ (شنہوا)
31جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)تھیان جن یونیورسٹی سکول آف آرکیٹیکچر کی لیبارٹری میں عاصمہ بی بی کی توجہ ، اپنے "کلائمیٹ-مینٹل ہیلتھ -کمیونٹی" کے تین گنا لچکدار ماڈل کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے ۔وہ ، ایک عملی اور شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے پاکستان میں موسمیاتی آفات سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرسکیں اور ان کا اعتماد بحال ہوسکے ۔
عاصمہ 2010 میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد کلائمیٹ ایکشن اور کمیونٹی سروس سے وابستہ ہوئیں۔صرف 21 سال کی عمر میں، انہوں نے اپنے شہر کو وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہوتے دیکھا اور زندہ بچ جانے والوں کی طویل مدتی مشکلات کا مشاہدہ کیا تھا ۔37 سالہ عاصمہ کہتی ہیں کہ انہیں احساس ہوا کہ موسمیاتی آفات نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ گہرے نفسیاتی زخم بھی دیتی ہیں۔ انہی لمحات میں انہوں نے اپنے آپ کو موسمیاتی تحفظ اور کمیونٹی کی مدد کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔
عاصمہ کا سفر بغیر کسی فنڈنگ یا ٹیم کے ،محدود وسائل کے ساتھ شروع ہوا۔ ابتدائی طور پر ان کے کام کا انحصار اپنی والدہ اور بہن پر تھا اور انہوں نے خاموشی سے پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں اپنا کام جاری رکھا۔ورک فورس کا حصہ بننے کے بعد ، عاصمہ نے اپنی تنخواہ کا 70 فیصد عوامی بہبود کے منصوبوں مثلاً ماحولیاتی تعلیم، ذہنی و نفسیاتی صحت کی معاونت اور شجر کاری میں لگایا ۔ کچھ ہی برسوں میں وہ اپنی ایک ٹیم تشکیل دینے میں کامیاب ہوئیں ۔عاصمہ نے اب تک 1,200 سے زیادہ کمیونٹی آؤٹ ریچ سیشنز کا انعقاد کیا ہے، 16,000 سے زیادہ درخت لگائے ہیں اور اس سب کے لیے پاکستان کے 28 شہروں اور 300 دیہات کا سفر کیا ہے۔
تعلیم کے ذریعے اپنی بنیادی سطح کی ان کوششوں کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کے لیے عاصمہ نے 2024 میں تھیان جن یونیورسٹی سکول آف آرکیٹیکچر میں لینڈ سکیپ آرکیٹیکچر کے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لیا۔ ان کی تحقیق ماحولیاتی تبدیلی، ذہنی و نفسیاتی صحت اور قدرتی حل کے مابین تعلق پر مبنی ہے۔ عاصمہ کے مطابق ان کی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا جاتاہے کہ ماحولیاتی لچک اور نفسیاتی بہبود دونوں میں بہتری اور اضافے کے لیے کس طرح سے پائیدار، کمیونٹی پر مشتمل رہائشی ماحول ڈیزائن کیے جا سکتے ہیں ، خاص طور پر ان علاقوں میں جو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے خطرات کا شکار ہیں۔ انہوں نے امید کی کہ وہ علمی معلومات کو بنیادی سطح کے عملی کاموں کے ساتھ منسلک کر سکیں گی اور برسوں کے تجربات کو عملی اور قابل توسیع حل میں تبدیل کریں گی۔
عاصمہ چین میں اپنے قیام کے دوران ، ایکو لوجیکل گورننس کے حوالے سے چین کی ثابت قدمی اور مضبوط عزم سے بے حد متاثر ہیں جس نے ماحولیاتی بحالی اور جنگلات کی بحالی کے ذریعے بے آب و گیاہ زمینوں اور صحرا زدگی کے شکار علاقوں کو زیادہ سرسبز اور قابلِ رہائش مقامات میں تبدیل کر دیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کو بار بار آنے والے سیلاب، شدید گرمی کی لہر اور ماحولیاتی انحطاط کے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے یہ موضوع ان کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے اور یہاں پر مستقل منصوبہ بندی، عوامی شرکت اور ماحولیاتی تحفظ کے مضبوط جذبے سے حساس ماحولیاتی نظام میں آنے والی بہتری کا مشاہدہ کرنا ان کے لیے بے حد بہت حوصلہ افزا رہا ہے۔عاصمہ کے لیے اس میں سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ چین کی ماحولیاتی حکمرانی صرف ماحولیاتی بحالی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کی معیشت کو بھی بہتر بناتی ہے اور صحت مند رہائشی ماحول تخلیق کرتی ہے اور اسی باعث ان کا اس امر پر یقین اور بھی پختہ ہوا ہے کہ "کلائمیٹ گورننس" صرف اس وقت حقیقی نتائج دے سکتی ہے جب اس میں سائنسی طرزِ فکر، عوامی شمولیت اور طویل مدتی نقطہ نظر یکجا ہوں۔
تھیان جن یونیورسٹی کے تعلیمی پلیٹ فارم کی مدد سے، عاصمہ نے اپنی بین الاقوامی تحقیق کو پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اپریل میں، انہوں نے ماسکو میں سیکنڈ اوپن ڈائیلاگ "دنیا کا مستقبل۔ عالمی ترقی کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم" میں شرکت کی اور ان کا مقالہ کانفرنس کی کارروائیوں میں شامل کیا گیا۔ 14 جولائی کو انہوں نے یونیورسٹی آف مانچسٹر میں 14ویں انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ فیسٹیول میں اہم تقریر کی۔
مستقبل کے حوالے سے عاصمہ بی بی کا ہدف بالکل واضح ہے کہ وہ اپنے کئی سالوں کے بنیادی عملی تجربات کو پاکستان میں ایک ایسے معیاری تعلیمی ڈھانچے میں تبدیل کریں گی جسے بین الاقوامی سطح پر فروغ دیا جا سکے۔عاصمہ امید کرتی ہیں کہ وہ تھیان جن یونیورسٹی کو ایک بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے چین اور پاکستان کے نوجوان محققین کے درمیان موسمیاتی موافقت، قدرتی آفات کے بعد نفسیاتی بحالی اور ماحولیاتی حکمرانی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کو فروغ دیا جائے گا ۔ انہیں یقین ہے کہ متعلقہ چینی تجربات کو موسمیاتی خطرات سے دوچار پاکستانی کمیونٹیز تک پہنچا کر، دونوں ممالک علمی تعاون اور نوجوانوں کے تبادلوں کو گہرا کر سکتے ہیں اور مخصوص سیاق و سباق میں ماحولیاتی حل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

16 فروری 2026 ۔ سپرنگ فیسٹیول کے دوران ،عاصمہ بی بی اپنی سپر وائزر کے ساتھ مل کر ڈمپلنگز بنا رہی ہیں۔(شنہوا)



