امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اگست کو ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ 3 اگست کو ایران کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔
امریکہ نے حالیہ دنوں اپنے مؤقف میں ایک بار پھر نمایاں تبدیلی دکھائی ہے۔ یکم اگست کو امریکہ نے ایران کے خلاف اب تک کی "شدید ترین بمباری" کی دھمکی دی تھی، تاہم اگلے ہی روز حملہ روکنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔
تاہم متعدد اسرائیلی حکام نے 2 اگست کو انکشاف کیا کہ اسرائیل کو کئی گھنٹوں تک امریکی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم نیتن یاہو سمیت اسرائیلی قیادت کو بھی امریکی حملے روکنے کے فیصلے کا علم صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہوا۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 2 اگست کو کہا کہ ایران اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال تنازع شروع ہونے سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں جائے گی۔
بقائی نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایران کے مرکزی کردار سمیت عمان کے ساتھ مشاورت اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مکالمے کی بنیاد پر آبنائے ہرمز کے انتظام کو آگے بڑھایا جائے گا۔



