• صفحہ اول>>تبصرہ

    "چائنا کول" ، ایک "نعرہ" نہیں ایک "اقدام"

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-12

    12اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) ایک ایسے وقت میں کہ جب دنیا کے زیادہ تر حصے شدید گرمی کی لہر سے بری طرح متاثر ہیں، چین اپنی قدرتی ماحول کی خوبیوں، جدید بنیادی ڈھانچے اور بڑھتی ہوئی سہولیات کے ساتھ ایک منفرد "کول سلوشن" پیش کر رہا ہے۔ کلیدی لفظ "کول چائنا" سے "چائنا کول" کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ متنوع مناظر، جدید ترین ذرائع آمدورفت، عوام کے لیے ٹھنڈک فراہم کرنے کی وافر سہولیات اور ویزہ فری پالسیز میں اضافے کے ساتھ چین، دنیا کے لیے موسم گرما کی سیاحت کو مزید قابل رسائی بنا رہا ہے۔

    لیکن "چائنا کول" سے مراد صرف، شدید گرمی سے فرار نہیں ہے بلکہ یہ آرام دہ سفر، ثقافت کی دریافت، فطرت کی خوبصورتی اور جدید سہولیات کو یکجا کرتے ہوئے ایک وسیع تر تجربہ ہے۔ "چائنا کول" کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربات اور گرمیوں میں چین کے لیے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی پسندیدگی کے حوالے گلوبل ٹائمز کے ساتھ بات کرتے ہوئے پاکستانی تھنک ٹینک گلوبل سلک روٹ ریسرچ الائنس کے بانی و چیئرمین، ضمیر احمد اعوان نے کہا کہ اس سال گرمیوں کے موسم میں پڑنے والی غیر معمولی گرمی، لوگوں کے سفری انتخاب اور طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے۔ فرانس میں جولائی ریکارڈ ساز گرم تھا، جب کہ جنگلات میں لگنے والی آگ نے شدید گرمی اور خشک سالی کے دوران فرانس اور سپین کے کچھ حصوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اقتصادی نقصان سمیت انسانوں کو پہنچنے والے نقصانات کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

    اس پس منظر میں چین، گرمیوں کے سفر کے لیے ایک زیادہ دلکش متبادل پیش کرتا ہے۔ "کول چائنا" صرف خوشگوار موسم اور کم گرمی کا تجربہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک وسیع تر شکل اختیار کر تے ہوئے "چائنا کول" کی جانب منتقل ہوچکا ہے جو گرمیوں کے تجربے کا ایک آرام دہ، سہل اور متنوع طریقہ فراہم کرتا ہے۔

    چین کی جغرافیائی خصوصیات سیاحوں کو متنوع انتخاب کا شاندار موقع دیتی ہیں۔ یونان-گوئے جو سطحِ مرتفع کی خوشگوار پہاڑی آب و ہوا، دلکش پہاڑ اور جھیلیں نیز مختلف قومیتوں کی بھرپور ثقافت کا امتزاج پیش کرتا ہے۔ کھن منگ کی پہچان اس کا خوشگوار اور معتدل موسم ہے، یہ گرمیوں کے موسم میں یوننان کے پرکشش قدرتی مناظر تک پہنچنے کا ایک دروازہ بن سکتا ہے۔ شمال کی طرف، شمال مشرقی چین کے شہروں ہاربن اور چھانگ چھون سمیت حیلونگ جیانگ اور جی لِن جیسے علاقے اپنے قدرتی جنگلات ،خوشگوار ماحول، بہتے دریاوں، سرسبز پہاڑوں اور وسیع میدانی چراگاہوں کے ذریعے ایک شاندار قدرتی ماحول فراہم کرتے ہیں۔

    فطرت اور جدت کا امتزاج تلاش کرنے والے مسافروں کے لیے، چین کا جدید انفراسٹرکچر ان مقامات کو مزید قابل رسائی بناتا ہے۔ ہائی سپیڈ ریلوے سسٹم بڑے شہروں کو باہم منسلک کرتا ہے جب کہ جدید ہوائی اڈے، شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹل اور پرسکون ٹھنڈک والے عوامی مقامات گرم موسم میں سفر کو بے حد آسان بناتے ہیں۔

    "چائنا کول" کے تجربے میں صرف گرمی کی شدت میں ہی کمی نہیں ملتی بلکہ اس میں قدرتی مناظر کو مختلف کھانوں، ثقافتوں، ٹیکنالوجی اور شہری تجربات کا امتزاج ملتا ہے۔ ایک مسافر تمام ممکنہ سہولیات کے ساتھ، ایک جدید شہر کے مرکز سے پہاڑی علاقے، جنگل یا جھیل کے کنارے پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چین کی یک طرفہ ویزا فری پالیسی اب 50 ممالک کے عام پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے سیاحت اور دیگر مختصر مدتی مقاصد کے لیے، عموماً 30 دن تک قیام کے لیے موثر ہے۔اسی لیے اب "چائنا کول" صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ گرمیوں کے ایک ہی سفری ٹرپ میں آرام، فطرت کی خوبصورتی، ثقافت اور جدید رابطوں سے لطف اندوز ہونے کا ایک دعوت نامہ ہے۔

    ویڈیوز

    زبان