• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    ہنر  اور قابلیت کی بڑھتی ہوئی  مانگ ، چین نے سائنسی و تکنیکی کالجز کی منظوری دے دی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-06-23
    ہنر  اور قابلیت کی بڑھتی ہوئی  مانگ ، چین نے سائنسی و تکنیکی کالجز کی منظوری دے دی
    13 مئی 2024 کو شمال مشرقی چین کے صوبے ہیلونگ جیانگ کے شہر ہاربن میں سینٹرل سٹریٹ پر اختراعات اور کاروباری کامیابیوں کی نمائش کے دوران ہاربن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کالج کے طلبہ کی ٹیم کا ایک رکن مائیکرو کشش ثقل کے تجربے کا نظام دکھا رہا ہے۔ (شنہوا/وانگ سونگ)

    23جون 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن) چین نے اقتصادی ترقی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق ہنر مند افراد کی تربیت کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والی کئی نئے انڈرگریجویٹ یونیورسٹیز اور پیشہ ورانہ کالجز کے قیام کی منظوری دی ہے ۔

    وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، نئے کیمپسز کی فہرست میں جنوبی اور مشرقی چین میں دو ریسرچ یونیورسٹیز شامل ہیں۔

    ان میں سے ایک نمایاں ادارہ گریٹ بے یونیورسٹی ہے، جو گوانگ دونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا کے شہر دونگ گوان میں واقع ہے۔ یہ ادارہ ایک ریسرچ یونیورسٹی کے طور پر فیوچر ٹیکنالوجی کی ترقی، صنعتی ترقی اور سماجی پیشرفت میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

    گوانگ د ونگ سوشل سائنسز اکیڈمی کے سابق صدر، وانگ جون کا کہنا ہے کہ گریٹ بے یونیورسٹی کا ہدف ، اقتصادی جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگ شعبوں جیسے ریاضی، طبیعیات، کمپیوٹر سائنس، مٹیریل سائنس اور صنعتی انجینئرنگ میں اعلیٰ سطح کے جدید ہنر مند افراد کی تربیت کرنا ہے۔ ان کای رائے میں گریٹر بے ایریا کی تعلیمی ترقی کو جدید ٹیکنالوجی کی مزید اختراعات کی جانب توجہ دینی چاہیے اور بنیادی تحقیق و اطلاق میں گوانگ دونگ، ہانگ کانگ اور مکاؤ کی یونیورسٹیز کے مابین تعامل کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

    فہرست میں شامل دوسری نئی ریسرچ یونیورسٹی، صوبہ جی جیانگ کے شہر ننگبو میں قائم ایسٹرن انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی ہے، جہاں بنیادی تحقیق، ایک سے زیادہ جدید شُعبوں پر مُشتَمِل تعلیم اور انجینئرنگ ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔یونیورسٹی کے زیادہ تر فنڈز غیر سرکاری ہیں اور توقع ہے کہ رواں سال انڈرگریجویٹ طلبہ کے داخلے شروع کیے جائیں گے ، جبکہ یہ کوشش بھی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں اسے عالمی معیار کی یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے ۔

    وزارت تعلیم نے سنکیانگ میں دو نئے کالجز قائم کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ چین کے شمال مغرب میں واقع سنکیانگ وسیع اور متنوع قومیتوں کا حامل علاقہ ہے۔ نئے کیمپسز میں سے ایک الائر میں اور دوسرا تمشک میں ہے، یہ دونوں علاقے سنکیانگ کے جنوبی حصے میں صحرائے تکلمکان کے کنارے پر آباد ہیں۔آکسو ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر لیو بائی کانگ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنوبی سنکیانگ میں تعلیمی وسائل کی کمی کو دور کرنے اور وہاں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھاتے ہوئے ،مساوی تعلیم اور علاقائی ترقی کو فروغ دینے میں معاونت کرے گا۔مستقبل میں اس کے باعث سنکیانگ کے بڑے صنعتی کلسٹرز کے لیےہنر مند افراد کو معاونت فراہم کی جائے گی اور اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

    ملازمت کی بدلتی ہوئی مجموعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ، چین اپنے اعلیٰ تعلیم کے نظام کو اس طرح ترتیب دے رہا ہے کہ نوجوان افراد کو موثر انداز میں ضروری مہارتوں اور صلاحیتوں سے لیس کیا جائے تاکہ وہ آنے والے دہائی میں کامیابی سے آگے بڑھ سکیں۔اس سال، ملک بھر میں یونیورسٹیز اور کالجز نے 29 نئے مضامین متعارف کرائے ہیں، ان میں مصنوعی ذہانت، کاربن نیوٹرلٹی، اور کم ارتقاع کی حامل معیشت جیسے مضامین شامل ہیں جو قومی سٹریٹجک ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ۔

    ویڈیوز

    زبان