• صفحہ اول>>دنیا

    یورپی یونین اور امریکہ کے حالیہ تجارتی معاہدے  سے  جرمن کاروباری برادری میں وسیع پیمانے پر تشویش

    (CRI)2025-08-07

    جرمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے 6 اگست کو جاری ہونے والی ایک سروے رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے نے جرمن کاروباری برادری میں وسیع پیمانے پر تشویش پیدا کردی ہے۔

    سروے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سروے میں شامل تقریباً 3500 جرمن کمپنیوں میں سے 72 فیصد نے کہا کہ وہ امریکی تجارتی پالیسیوں سے منفی طور پر متاثر ہوئی ہیں ، جبکہ امریکہ کے ساتھ براہ راست کاروبار کرنے والی جرمن کمپنیوں میں 90فیصد نے منفی طور پر متاثر ہونے کا اظہار کیا ۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 58 فیصد کمپنیاں فکرمند ہیں کہ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ نئے بوجھ لے کر آئے گا، اور یہ تناسب امریکہ کے ساتھ براہ راست کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں 74 فیصد تک پہنچتا ہے۔

    جرمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سی ای او میلنیکوف نے کہا کہ یورپی یونین اور امریکہ کا تجارتی معاہدہ جرمن معیشت اور کاروباری اداروں کے لیے ایک 'کڑوی دوا' ہے، جو کاروباری اداروں پر بوجھ میں کمی کے بجائے اضافہ ہے ، زیادہ محصولات اور زیادہ پیچیدہ انتظامی طریقہ کار کاروباری اداروں کی مسابقت کو کمزور کرے گا۔

    امریکہ کی یکطرفہ ٹیرف پالیسی عالمی سپلائی چین پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے اور جرمن رائے عامہ یہ سمجھتی ہے کہ قلیل مدتی تجارتی فوائد ،طویل مدتی نقصان دہ نتائج کو چھپا نہیں سکتے۔ صرف کھلے پن و تعاون کو برقرار رکھنے اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرکے ہی ہم پائیدار ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔ جرمن رائے عامہ کےمطابق چین کی جدت طرازی کی بدولت، چین اور جرمنی کا تعاون عالمی ذہین مینوفکچرنگ کے لئے ایک مثال بن رہا ہے جو "ٹیکنالوجی درآمد " سے "مشترکہ جدت طرازی" اور "دو طرفہ بااختیاری" کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان