شمال مغربی چین کے صوبے گانسو کے شہر ڈون ہوانگ کے موگاو گروٹوز سے ملنے والا تین خرگوشوں کا نمونہ
7 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)ایک ازلی دائرے میں ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتے تین خرگوش ، جن میں سے ہر ایک کا کان دوسرے کے کان سے اس طرح جڑا ہے کہ ایک مکمل مثلث بنتی ہے۔ اس علامتی نمونے نے مختلف تہذیبوں میں تاریخ دانوں اور فنکاروں کی تخیل کو متاثر کیا ہے۔
یہ علامتی نمونہ نہ صرف شمال مغربی چین کے صوبے گانسو کے شہر ڈون ہوانگ کے موگاو گروٹوز کی قدیم دیواروں پر ملتا ہے بلکہ ، افغانستان میں دھات کے کام میں اس نمونے کا استعمال ملتا ہے، مصر کے مٹی کے ظروف پر اور برطانیہ میں ٹائل پینٹنگز سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں یہ علامتی نمونہ نظر آتا ہے۔
حالیہ دنوں ، تہذیبوں کے مابین تبادلے اور باہمی سیکھ کے چوتھے مکالمے کے دوران ،بین الاقوامی شرکا میں اس کی اہمیت کا تذکرہ رہا۔قدیم ڈون ہوانگ میں تخلیق ہونے والے تین خرگوش ، شاہراہِ ریشم کے ساتھ پھلتی پھولتی ثقافت اور تجارتی تبادلوں کے خاموش گواہ ہیں جو آج بھی ثقافتی مکالموں میں جنم لیتی کہانیوں کو متاثر کر رہے ہیں ۔
ڈون ہوانگ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے فنون لطیفہ کی بین الاقوامی نمائشوں تک، تحفظ کی تکنیک برآمد کرنے سے لے کر دنیا بھر میں ڈون ہوانگ پر ہونے والےتحقیقی میدان کی توسیع تک ، زیادہ سے زیادہ لوگ اس ثقافتی خزانے کے تحفظ میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کوششیں جدید دور میں ڈون ہوانگ کے ورثے کو مسلسل زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
تصویر میں ایک ایرانی ٹرے دیکھی جا سکتی ہے جس پر تین خرگوشوں کا علامتی نشان کندہ ہے۔
تین خرگوشوں کا نشان، تاریخی ثقافتی انضمام میں ڈون ہوانگ کے کردار کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ موگاؤ غاروں میں یونانی -رومی آئیونک ستون اور گندھارا/گپتا کے اثرات والے میورلز ، چین کے تاریخی کھلے پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ فارس ، سوگدیانا، ہندوستان اور دیگر دور دراز علاقوں کے قدیم تاریخی مسودے ،شاہراہ ریشم کے ذریعے پرامن تبادلے و تجارت کے ثبوت دیتے ہیں۔
قدیم راستے جدید راستوں میں تبدیل ہو رہے ہیں، جو قدیم ورثے میں نئی روح پھونک رہے ہیں۔ اونٹوں کی گھنٹیوں کی جگہ تیز رفتار ٹرینز لے چکی ہیں ، مال بردار کشتیوں کی جگہ جہازوں نے لے لی ہے اور ایک نئی "ایریئل سلک روڈ "تجارت اور تعاون کے ذریعے دور دراز کے علاقوں کو آپس میں جوڑ رہی ہے۔ چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں 150 سے زائد ممالک کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اس تاریخی تجارتی راستے کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔
چین کی سفارتی حکمت عملی اس خیال پر مبنی ہے کہ اتحاد طاقت لاتا ہے، جبکہ تنہائی کمزوری کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ حکمت عملی باہمی فائدے، اعتماد، ہم آہنگی، اور اچھی ہمسائیگی کو فروغ دیتی ہے نیز مشترکہ ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے چین کے عزم کا اظہار بھی ہے۔
تصویر میں جرمنی کے ایک چرچ میں بنی ایک گھڑی دکھائی گئی ہے جس پر تین خرگوشوں کا علامتی نمونہ بنا ہوا ہے۔
تین خرگوشوں کا نشان، جو مختلف ممالک میں ایک ہی ڈیزائن کے ساتھ پایا جاتا ہے، ہر ورژن میں منفرد فنکارانہ تصورات کو پیش کرتا ہے۔ موگاؤ گروٹوز کے غار نمبر 407 میں، خرگوشوں کو پرواز کرتی اپسرا اور کنول کے پھولوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جو زندگی اور خوبصورتی سے بھرپور ہیں۔ دوسری طرف جرمنی کے پیڈربورن کیتھیڈرل کی رنگین کھڑکیوں میں، انہیں گوتھک فن کے منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ثقافتی اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ تبادلے کس طرح تحفظ اور جدت دونوں کی سمت لے جا سکتے ہیں۔
جب انسانیت مشترکہ چیلنجز اور مقاصد کا سامنا کرتی ہے، تو ثقافت کو سمجھنا ترقی کی رہنمائی اور امن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہوجاتا ہے۔ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ پہلے سے زیادہ اہم ہے۔
تین خرگوشوں کا نشان کوئی واحد نشان نہیں ہے۔ 2,000 سال پہلے، چین کے ہان شاہی دور میں (202-220) شاہی ایلچی جانگ چیان کے مغرب کی جانب کیے جانے والی تاریخی سفر کے بعد، انار ، چین میں متعارف ہوا۔ آج، شی آن کے چائنا-سنٹرل ایشیا فرینڈ شپ جنگل میں یکجہتی اور باہمی ترقی کی ایک زندہ علامت کے طور پر انار کے 6 درخت پھل پھول رہے ہیں۔
تاریخ دلوں کو جوڑتی ہے، اور ثقافتی ورثہ تعاون کو بڑھاتا ہے۔ دعا ہے کہ سلک روڈ کے نغمے نسلوں تک گونجتے رہیں، دوستی کا درخت ہمیشہ ہرا بھرا رہے، تہذیب کے پھول ہم آہنگی کے رنگوں میں کھلیں، اور مشترکہ ترقی کے پھل سب کے لیے خوشی لائیں۔