9 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)ایک قلعے سے گہرے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں، تیر کمان سے مسلح بہادر تبتی لوگوں کا ایک ہجوم ،ایک بڑی غیر ملکی رائفل بردار فوج کی طرف بڑھ رہاہے ، جو ان کے قلعے پر حملہ کرنے آرہی ہے۔ یہ منظر اس ڈرامائی ڈیجیٹل نمائش کا ہے جو 1904 میں برطانوی حملہ آوروں کے خلاف تبتی مزاحمت کو اجاگر کرنے کے لیے بیجنگ میں تبتی ثقافت کے میوزیم میں منعقد کی گئی تھی۔
میوزیم کے نگران ، داوا ٹسرن کہتے ہیں اپنے وطن کے دفاع میں ہتھیار اٹھانے والے عام لوگ تھے ، مقابل میں ہتھیاروں کی بہتات تھی اس کے باوجود انہوں نے اپنے وطن کی حفاظت کے جذبے کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس تاریخ کو دوسروں کے ساتھ بانٹ کر ہم یہاں کے تمام قومیتی گروہوں کی مشترکہ کوششوں کو نمایاں کرتے ہیں جو ایک متحدہ ملک کی تعمیر میں شامل ہیں۔
2010 میں قائم ہونے والا یہ میوزیم تبت کی تاریخ و ثقافت کو محفوظ رکھنے اور اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ یہاں چنگہائی-تبت پلیٹو کے نوادرات اور تاریخی ریکارڈ موجود ہیں جو چین کی مرکزی حکومت کی شی زانگ پر حکمرانی کا دستاویزی ثبوت ہیں۔
یہاں پر ایک اور مقبول نمائش، تبتی بدھا کے دوبارہ جنم لینے کی صدیوں پرانی روایت پر مشتمل ہےجس میں 100 سے زائد نوادرات شامل ہیں جو تصاویر، ویڈیوز اور ڈیجیٹل پروجیکشن کے ذریعے پیش کی گئی ہیں۔
ان نمائشوں کے علاوہ ، یہاں آنے والوں کو تبتی ثقافت کا براہ راست تجربہ فراہم کرنے کے لیے میوزیم عملی سرگرمیاں بھی فراہم کرتا ہے جن میں تبتی لکھائی سیکھنا، تھانگکا پینٹنگز بنا نا، اور مٹی سے بدھ مت کے مجسمے تیار کر نا شامل ہیں۔