مقامی وقت کے مطابق 26 جنوری کو،امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ "ابراہم لنکن" کیریئر اسٹرائیک گروپ کو "مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جارہا ہے"۔ اسرائیل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی حملے سے بچاؤ کے لیے، امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید "پیٹریاٹ" ایئر ڈیفنس اور اینٹی میزائل سسٹم اور "تھاڈ" اینٹی میزائل سسٹم بھی تعینات کر رہا ہے۔ اسرائیل کی دفاعی افواج کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں تل ابیب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کوپر سے ملاقات کی تاکہ ایران کی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اطلاع کے مطابق امریکی فریق نے بات چیت کے دوران تسلیم کیا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا فروغ اس کا "بنیادی مقصد" ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان نے 26 جنوری کو کہا کہ اگر امریکہ نے کوئی جارحیت کی تو ایران کا ردعمل "امریکی فوجی اڈوں یا آلات تک محدود نہیں رہے گا۔" اسی دن ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج اپنی پوری طاقت کے ساتھ کسی بھی جارحیت کا ایسا جواب د ے گی کہ جارحیت کرنے والے کو اپنی جارحیت پر پچھتاوا ہوگا ۔ادھر لبنانی حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے 26 جنوری کو کہا ہے کہ حزب اللہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی پر خاموش نہیں رہے گی، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ایک وسیع علاقائی تنازع کو جنم دے سکتے ہیں۔



