27جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)چائنیز اکیڈمی آف سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ چین نے خلا میں ،تھری ڈی میٹل پرنٹنگ کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو مدار میں چین کی پیداواری صلاحیتوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔اس تجربے کو چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کےتحت انسٹی ٹیوٹ آف میکانکس کے تیار کردہ ریٹریو ایبل سائنسی پے لوڈ کے ذریعے سر انجام دیا گیا۔یہ پے لوڈ ،چینی خلائی ادارے چائنا ایرو سپیس انٹر پرائزز کے خلائی سیاحت کے لیے تیار کردہ کمرشل سپیس کرافٹ Lihong-1 Y1 کے ذریعے خلا تک پہنچا اور زمین کے کرہِ ہوائی کے بعد تقریباً 120 کلومیٹر کی بلندی پر، مائیکرو گریویٹی ماحول میں خودکار طور پر دھات کے پرزے تیار کیے۔
اس کامیاب مشن سے چین کی، خلا میں اضافی دھاتی پیداوار کی ٹیکنالوجی "زمین پر تحقیق" سے "خلا میں انجینئرنگ کی تصدیق" کے نئے مرحلے میں منتقل ہوگئی ہے اور اس سے دنیا میں چین کی مجموعی تکنیکی صلاحیت صف اول میں شامل ہوگئی ہے۔ تجربے کے بعد، پے لوڈ کیپسول نے پیراشوٹ کی مدد سے محفوظ لینڈنگ کی اور اسے فوری طور پر بازیاب کیا گیا۔ اس تجربے سے سائنسدانوں نے نہایت قیمتی ابتدائی معلومات حاصل کی ہیں، جن میں میلٹ پول کی حرکی خصوصیات، مواد کی منتقلی، ٹھوس ہونے کا انداز اور خلا میں پرنٹ کیے گئے حصوں کی جیومیٹرک درستگی ومکینیکل خصوصیات شامل ہیں۔




