کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے 27 جنوری کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے والی امریکی پالیسیوں پر اپنے تنقیدی ریمارکس کو "واپس نہیں لیا"۔
مارک کارنی نے کہا کہ انہوں نے 26 جنوری کو ٹرمپ سے فون پر بات کی اور دونوں نے یوکرین کی صورتحال، وینزویلا کے بحران اور آرکٹک سیکورٹی جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ نے 26 جنوری کو کہا تھا کہ کارنی نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی کال کے دوران ڈیووس میں دیے گئے کچھ نامناسب ریمارکس کو واپس لیا ہے ۔
یاد رہے کہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے 20 جنوری کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں تقریر کرتے ہوئے عالمی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے والی امریکی پالیسیوں پر تنقید کی تھی اور پھر ٹرمپ سے ملاقات کیے بغیر ہی سوئٹزرلینڈ سے وطن واپس چلے گئے تھے ۔



