مقامی وقت کے مطابق 27 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست آئیووا میں اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ایک اور بحری بیڑہ ایران کی طرف جا رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچے گا ۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے 26 تاریخ کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کے "ابراہم لنکن " نامی کیریئر ا سٹرائیک گروپ کو "مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جا رہا ہے۔"
امریکہ نے حال ہی میں اسرائیل کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریوں سے آگاہ کیا ہے۔ امریکی فریق نے کہا کہ متعلقہ تیاریاں دو ہفتوں کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے، اور آنے والے مہینوں میں کارروائی کرنے کے لیے موزوں " ونڈو آف آپرچیونٹی " سامنے آسکتی ہے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ہے،27 تاریخ کو ایک بیان جاری کیا کہ اس کی نویں فضائی یونٹ چند روزہ فضائی مشق کرے گی تاکہ وہ سنٹرل کمانڈ کے ذمہ داری کے علاقے میں تیزی سے تعیناتی، مشنز کی تعیناتی، اور مسلسل فوجی آپریشن کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے۔
یہ مشق ایک ایسے وقت میں ہو گی جب امریکہ ایران پر فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ایک دن قبل، سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کا "ابراہم لنکن" کیریئر اسٹرائیک گروپ مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہو گیا ہے۔



