• صفحہ اول>>دنیا

    ایران کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال

    (CRI)2026-01-30

    مقامی وقت کے مطابق 29 جنوری کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی بحریہ کا ڈسٹرائر "ڈیلبرٹ ڈی بلیک" گزشتہ 48 گھنٹوں میں مشرق وسطیٰ پہنچا ہے۔ تاحال امریکہ مشرق وسطیٰ میں کم از کم دس جنگی بحری جہاز تعینات کر چکا ہے، جن میں چھ ڈسٹرائر، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین دیگر ساحلی جنگی جہاز شامل ہیں۔

    امریکہ کے مسلسل دباؤ کے جواب میں، ایران نے مقامی وقت کے مطابق 29 جنوری کو اعلان کیا کہ وہ یکم سے 2 فروری تک آبنائے ہرمز میں لائیو فائر ڈرلز سمیت فوجی مشق کرے گا۔

    اس کے علاوہ، ایرانی حکام نے اسی دن کہا کہ تہران کی میونسپل حکومت نے جنگ کے وقت پناہ گاہوں کی تعمیر کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے، جس میں زیر زمین پارکنگ لاٹس کو "امن کے وقت کی پارکنگ اور جنگ کے وقت کی پناہ گاہ" کے دوہرے مصرف کے لیے استعمال کرنا بھی شامل ہے۔

    ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے 29 جنوری کو علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے لیے تیاریاں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ شروع کرنے میں پہل نہیں کرے گا ، لیکن اگر حملے کا سامنا ہوا تو ایران سخت جواب دے گا۔ ایرانی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران بات چیت پر آمادہ ہے لیکن بات چیت "حقیقی اور قابل اعتماد ضمانتوں" کے ساتھ ہونی چاہیے۔

    یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ امور اور سیکورٹی پالیسی کاراس نے 29 تاریخ کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ایران کی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے بھی بڑھتی ہوئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور امریکا اور ایران سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے اور صورت حال کی کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان