• صفحہ اول>>دنیا

    سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات اور اقدامات نے جاپانی قانون کی بالادستی کو چیلنج کیا ہے، جاپانی ماہر قانون

    (CRI)2026-02-02

    حال ہی میں چائنا میڈیا گروپ کے رپورٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں جاپانی ماہر قانون ماساہیکو گوٹو نے کہا ہے کہ جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات اور طرزِ عمل جاپان میں قانون کی حکمرانی کی سرخ لکیر کو عبور کر چکے ہیں، اور تاکائیچی کو چاہیے کہ وہ متعلقہ بیانات فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کے آئین کے آرٹیکل 9 میں واضح طور پر یہ درج ہے کہ جاپان جنگی صلاحیت برقرار نہیں رکھے گا اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا۔

    ماساہیکو گوٹو نے مزید کہا کہ جاپانی حکومت نے چین۔جاپان مشترکہ اعلامیہ اور چین۔جاپان امن و دوستی کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں، جن میں صاف طور پر یہ تحریر ہے کہ جاپان عوامی جمہوریہ چین کو چین کی واحد قانونی حکومت تسلیم کرتا ہے۔ ان کے مطابق، تاکائیچی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں دیے گئے جوابات کو اس حقیقت سے متصادم نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ معاہدے طے پا چکے ہیں اور پارلیمان کی منظوری کے بعد قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیرِ اعظم تاکائیچی کی جانب سے پارلیمان کی اجازت کے بغیر کابینہ کو موجودہ قوانین سے تجاوز کرنے والی تشریحات دینے کی اجازت دینا، قانونی تشریح کے اصولوں کے مطابق قابلِ قبول نہیں ہے۔

    ویڈیوز

    زبان