9فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)کیرغزستان کے صدر کے ماتحت اکیڈمی آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے سابق ریکٹر پروفیسر المازبیک اکماتالیو نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین صرف ایک " ورلڈ فیکٹری " نہیں ہے بلکہ مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور مواصلات میں بھی "ورلڈ لیڈر " ہے۔ چین اپنی مقامی مارکیٹ کو توسیع دینے اسےجدید بنانے، پیداوار اور لاجسٹکس چینز میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنے، سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو گہرا کرنے کے لیے مستقل اقدامات کر رہا ہے۔
پروفیسر المازبیک نے نشاندہی کی کہ چین نے مصنوعات کی تخلیق سے لے کر بیرونی ممالک میں صارفین کو ان اشیا کی ترسیل تک پوری ٹیکنیکل چین کو بنیادی طور پر مکمل کر لیا ہے اور اسے بہتر بنانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہ امر ،کیرغزستان میں، توروگارت اور ارکیشتام سرحدی گزرگاہوں کی مؤثر کارکردگی اور نئے بیدیل چیک پوائنٹ کے آغاز سے واضح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین-کیرغزستان-ازبکستان ریلوے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
پروفیسر المازبیک نے سی پی سی کی قیادت میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں، چینی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے تحفظ اور بہتری پر زیادہ زور دیا ہے، اس کے علاوہ طویل مدتی سماجی استحکام کو یقینی بنانے اور سماجی و اقتصادی ترقی کی صلاحیت کو مزید وسعت دینے کے لیے مقامی طلب کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر یقینی عالمی صورتحال کے تناظر میں ، چین کی پالیسی کو اقتصادی ترقی، سماجی استحکام اور سیاسی گورننس کو ہم آہنگ کرنے کی ایک دانستہ کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، ایسے اقدامات اقتصادی لچک کو بڑھانے، بیرونی عوامل پر انحصار کم کرنے، طویل مدتی ترقی کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور حکمرانی کے لیے عوامی حمایت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ موجودہ حالات میں، جب بین الاقوامی ماحول انتہائی غیر مستحکم اور غیر یقینی ہے، مقامی کھپت کو بڑھانے پر توجہ دینا چین جیسے ملک کے لیے ایک معقول پالیسی انتخاب ہے۔
پروفیسر المازبیک کی رائے میں ، مستحکم اقتصادی ترقی کو طویل مدتی سماجی استحکام کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے چینی حکومت نے استحکام پر توجہ دی ، اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے طریقہ کار کا عملی استعمال، پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے طویل مدتی حکمت عملی کی منصوبہ بندی اور ایسے ٹھوس پالیسی نتائج ہیں جنہوں نے عوامی حمایت حاصل کی، یہ سب چین کے انسدادِ غربت کے معجزے کی بنیادی وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ چین کی ترقی میں تیز رفتار اقتصادی ترقی، مؤثر سیاسی گورننس ، بڑے پیمانے پر غربت میں کمی اور مضبوط ادارہ جاتی لچک کے نایاب امتزاج سے بے حد متاثر ہیں۔



